انتہا پسندی: سیکیورٹی سے آگے سوچنے کا وقت

حمزہ ناصر خان

0

اسلام آباد
گزشتہ کئی برسوں سے پرتشدد انتہا پسندی (CVE) کے خلاف حکمت عملی کو زیادہ تر ایک محدود سیکیورٹی زاویے سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ ریاستیں عمومی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس آپریشنز اور بعض اوقات فوجی ردعمل پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ اقدامات وقتی طور پر استحکام تو فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
پرتشدد انتہا پسندی صرف ایک سیکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک سماجی، سیاسی، نفسیاتی اور نظریاتی مسئلہ بھی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
روایتی حکمت عملی کی حدود
روایتی انسداد دہشت گردی پالیسیاں زیادہ تر علامات کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ بنیادی اسباب کو۔ گرفتاریاں، نگرانی اور نیٹ ورکس کو توڑنے جیسے اقدامات فوری خطرات کم کرتے ہیں، مگر وہ ان حالات کو ختم نہیں کر پاتے جو انتہا پسند سوچ کو جنم دیتے ہیں۔
سیاسی محرومی، کمزور تعلیمی نظام، بے روزگاری، شناخت کا بحران اور سماجی عدم شمولیت جیسے عوامل اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ یہی عوامل وقت کے ساتھ انتہا پسند بیانیوں کے لیے زمین ہموار کرتے ہیں۔
بنیاد پرستی: ایک اندرونی سماجی عمل
بنیاد پرستی کو اکثر بیرونی خطرہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک داخلی سماجی عمل بھی ہے۔ یہ عمل کمیونٹیز، آن لائن پلیٹ فارمز اور ذاتی تجربات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔
افراد اچانک “بھرتی” نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک تدریجی عمل سے گزرتے ہیں جس میں جذباتی کمزوری، ناانصافی کا احساس اور شناخت کی تلاش شامل ہوتی ہے۔ صرف طاقت کے استعمال پر مبنی ردعمل ان پیچیدہ عوامل سے نمٹنے میں ناکام رہتا ہے۔
تعلیم کا کردار
تعلیم پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف سب سے مؤثر مگر کم استعمال ہونے والا ہتھیار ہے۔ ایسا تعلیمی نظام جو تنقیدی سوچ، برداشت اور شہری شعور کو فروغ دے، نوجوانوں کو انتہا پسند بیانیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
تاہم کئی معاشروں میں اب بھی رٹا نظام غالب ہے، جو سوال کرنے اور تجزیاتی سوچ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہی کمزوری نوجوانوں کو سادہ اور انتہا پسند نظریات کے لیے زیادہ حساس بناتی ہے۔
ڈیجیٹل دور کے چیلنجز
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ الگورتھمز پر مبنی مواد اکثر “ایکو چیمبرز” تشکیل دیتے ہیں، جہاں ایک ہی طرح کے خیالات بار بار سامنے آتے ہیں۔
اس سے نہ صرف تعصبات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ سماجی تقسیم بھی بڑھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیا جائے اور آن لائن ذمہ دارانہ رویوں کو اپنایا جائے۔
کمیونٹی اور ذہنی صحت کا کردار
خاندان، اساتذہ، مذہبی رہنما اور مقامی ادارے رویے میں تبدیلی کے ابتدائی اشاروں کو پہچاننے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مضبوط کمیونٹی سپورٹ سسٹم انتہا پسندی کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ذہنی صحت بھی ایک اہم پہلو ہے، جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ذہنی بیماری اور انتہا پسندی کو برابر نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن تنہائی، صدمہ اور شناخت کا بحران خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے ذہنی صحت کی سہولیات کو پالیسی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
سیکیورٹی سے آگے ایک متوازن حکمت عملی
پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مؤثر حکمت عملی صرف سیکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں ہو سکتی۔ اسے تعلیم، سماجی شمولیت، ڈیجیٹل ذمہ داری اور کمیونٹی کی مضبوطی کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
سیکیورٹی اقدامات فوری خطرات سے نمٹ سکتے ہیں، مگر پائیدار امن کے لیے بنیادی اسباب کا حل ضروری ہے۔
آخرکار، پرتشدد انتہا پسندی صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی کمزوریوں کا آئینہ ہے۔ اگر معاشرے صرف ردعمل تک محدود رہیں تو یہ مسئلہ برقرار رہے گا۔
اصل تبدیلی ردعمل سے روک تھام، کنٹرول سے شمولیت اور قلیل مدتی استحکام سے طویل مدتی مضبوطی کی طرف بڑھنے میں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.