اسلام آباد:کبھی صرف سوشل میڈیا کی مختصر ویڈیوز تک محدود رہنے والا آم کا ساگو اب دارالحکومت کے گھروں میں گرمیوں کی خاص سوغات بن چکا ہے۔ کیفے اور ریسٹورنٹس کے مہنگے میٹھوں کی جگہ یہ تازہ، رنگین اور آسانی سے تیار ہونے والا ڈیزرٹ خاندانی محفلوں، ویک اینڈ ڈنرز اور دعوتوں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں آموں کا موسم اپنے عروج پر ہے اور اسی کے ساتھ سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی یہ میٹھی ترکیب اب گھریلو کچن میں جگہ بنا چکی ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک پر گردش کرتی ویڈیوز نے لوگوں کو آم کے ساگو کی تیاری کی طرف راغب کیا، جہاں صارفین صرف ترکیبیں دیکھنے کے بجائے انہیں اپنے گھروں میں آزما بھی رہے ہیں۔
پکے ہوئے آم، ساگو پرلز، مینگو پیوری، دودھ یا ناریل کا دودھ، کریم، گاڑھا دودھ اور برف سے تیار ہونے والا یہ ٹھنڈا میٹھا اپنے منفرد ذائقے، خوبصورت اندازِ پیشکش اور آسان تیاری کے باعث تیزی سے مقبول ہوا ہے۔
سوشل میڈیا کا ذائقوں پر اثر
کھانے کے رجحانات پر نظر رکھنے والوں کے مطابق آم کے ساگو کی مقبولیت اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کو تبدیل کر رہے ہیں۔ پہلے جہاں لوگ کیفے سے مخصوص ڈیزرٹس منگواتے تھے، اب وہی ذائقے گھر میں تیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بارہ کہو کی رہائشی زرمینہ نے بتایا کہ انہوں نے یہ ترکیب سوشل میڈیا پر دیکھی اور پہلی بار گھر میں تیار کی۔
“یہ فوری طور پر سب کو پسند آگیا۔ اب جب بھی رشتہ دار یا دوست آتے ہیں تو میں آم کا ساگو ضرور بناتی ہوں۔ اس کے اجزا آسانی سے مل جاتے ہیں اور زیادہ مہنگے بھی نہیں،” انہوں نے کہا۔
ان کے مطابق گرمیوں میں اس کا ٹھنڈا اور تازگی بخش ذائقہ اسے خاص طور پر پسندیدہ بنا دیتا ہے۔
میٹھا جو خاندانوں کو جوڑ رہا ہے
اسلام آباد کے رہائشی فواد کے مطابق آم کے ساگو نے ان کے گھر میں بازار سے خریدے جانے والے میٹھوں کی جگہ لینا شروع کر دی ہے۔
“پہلے ہم کیفے سے ڈیزرٹس منگواتے تھے، لیکن اب گھر میں سب مل کر آم کا ساگو تیار کرتے ہیں۔ یہ کم خرچ بھی ہے اور ایک تفریحی سرگرمی بھی بن جاتی ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ گھر کے افراد آم کاٹنے، ساگو تیار کرنے اور میٹھے کو سجانے میں حصہ لیتے ہیں، جس سے یہ صرف کھانے کی چیز نہیں بلکہ خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی بن جاتا ہے۔
یونیورسٹی کی طالبہ ماریا کے خیال میں آم کے ساگو کی مقبولیت ڈیجیٹل دور میں کھانے کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔
“اب لوگ صرف فوڈ ویڈیوز دیکھتے نہیں بلکہ انہیں آزما بھی رہے ہیں۔ گھر میں کیفے جیسا میٹھا تیار کرنا ایک تخلیقی تجربہ بن چکا ہے،” انہوں نے کہا۔
غذائیت اور احتیاط
ماہرین غذائیت کے مطابق آم جہاں وٹامن اے اور سی، اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ایک صحت مند پھل ہے، وہیں آم کے ساگو میں شامل اضافی اجزا اس کی غذائی اہمیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد کی ماہر غذائیت ڈاکٹر سارہ کے مطابق تازہ آم کے ساتھ تیار کیا گیا آم کا ساگو ایک بہتر انتخاب ہو سکتا ہے، تاہم زیادہ مقدار میں کریم، گاڑھا دودھ اور چینی شامل کرنے سے اس میں کیلوریز بڑھ جاتی ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ “کم چینی اور زیادہ تازہ پھل استعمال کرکے اسے صحت مند میٹھا بنایا جا سکتا ہے۔”
آم کے ذائقے میں نئے تجربات
آم کے ساگو کی مقبولیت نے مقامی منڈیوں میں تازہ آموں کی طلب میں بھی اضافہ کیا ہے۔ کئی گھروں میں اب اس ڈیزرٹ کے نئے انداز آزمائے جا رہے ہیں، جن میں تلسی کے بیج، جیلی، مختلف موسمی پھل اور آئس کریم شامل کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا سے شروع ہونے والا یہ رجحان اب اسلام آباد کی گرمیوں کی ایک نئی گھریلو روایت بنتا جا رہا ہے، جہاں ایک وائرل ترکیب نے نہ صرف کھانے کے انداز بدلے بلکہ خاندانوں کو ایک ساتھ مل کر کچھ نیا بنانے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔
