سیلاب کا پھیلتا خطرہ، پاکستان میں مزید بارشوں کی وارننگ

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد:پاکستان میں مون سون کی شدید بارشوں نے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے، جہاں سیلابی ریلوں، دریاؤں میں پانی کی بلند سطح اور ندی نالوں کے بپھرنے سے گھروں، اسکولوں، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ 23 جولائی تک بارشوں کا ایک اور شدید سلسلہ صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے شہریوں کو محتاط رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ضلع خیبر میں سیلابی ریلے نے مختلف مقامات پر دو گاڑیوں کو بہا لیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے گاڑیوں میں موجود خواتین اور بچوں کو بحفاظت نکال لیا، تاہم پولیس کے مطابق تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ کھوگہ خیل کے علاقے میں زکریا مسجد کے قریب ایک کار بھی سیلابی پانی کی زد میں آگئی، تاہم تمام افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔
پنجاب میں دریاؤں کی سطح بلند
دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث وسطی پنجاب میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ حافظ آباد کے ہیڈ قادر آباد کے مقام پر پانی کی آمد 138 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی، جبکہ ابتدائی طور پر یہ سطح 115 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد حکام نے نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
لیہ میں دریائے سندھ کا پانی سمران شیب گاؤں میں داخل ہوگیا، جہاں دو سرکاری اسکول زیرآب آگئے۔ سیلابی پانی کے باعث دریا کے کناروں پر شدید کٹاؤ ہوا، سیکڑوں ایکڑ فصلیں متاثر ہوئیں اور تقریباً 300 مکانات کو نقصان پہنچا۔ علاقے میں متعدد بستیاں، مساجد، بجلی کے کھمبے اور دیگر عوامی تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
پل متاثر، دیہات کا رابطہ منقطع
حسن ابدال کے علاقے میں سیلابی ریلے نے کوہلیہ پل کو دوبارہ نقصان پہنچایا، جو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں درجنوں دیہات کے لیے واحد زمینی رابطہ سمجھا جاتا ہے۔ پل متاثر ہونے سے مقامی افراد کو بازاروں، اسکولوں اور طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
آزاد کشمیر میں بادل پھٹنے سے تباہی
آزاد جموں و کشمیر کی وادی نیلم میں بادل پھٹنے کے واقعے کے بعد اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی سے رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا، جس سے متعدد مکانات اور دکانیں زیرآب آگئیں۔
سیلابی پانی کے باعث گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، مویشی اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
مزید بارشوں کی پیشگوئی
پاکستان محکمہ موسمیات نے 25 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 23 جولائی تک نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور دریاؤں و ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا خدشہ ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بھی الرٹ جاری کرتے ہوئے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں سیلاب، پہاڑی طوفان اور ندی نالوں میں طغیانی کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق بالائی چناب اور جہلم کے معاون ندی نالوں میں سیلاب کا امکان ہے، جبکہ سیالکوٹ، نارووال، گجرات، بھمبر اور مریدکے میں موسمی ندی نالے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مری اور گلیات کے پہاڑی علاقوں میں بھی شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں، جن میں پنجکوڑہ، سوات اور چترال شامل ہیں، میں پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جس سے دریا کنارے آباد آبادیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خطرے والے علاقوں میں احتیاط کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ہنگامی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ ملک مزید شدید مون سون بارشوں کے ایک نئے مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.