پمز اسپتال اسلام آباد میں گزشتہ روز نرسری میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی سے متعلق فائر بریگیڈ کی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ پر وہ مطلوبہ حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے جو کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی کے داخلی اور خارجی راستے بند تھے، جس کے باعث ریسکیو کارروائی میں مشکلات پیش آئیں۔ رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ملنے کے تقریباً 6 منٹ بعد فائر بریگیڈ کی ٹیمیں پمز اسپتال پہنچیں تو جائے حادثہ پر شدید دھواں موجود تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپتال کے سیکیورٹی اسٹاف نے ریسکیو ٹیموں کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی، جبکہ جائے حادثہ پر غیر معمولی رش بھی موجود تھا۔ فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں سامنے آنے والی تفصیلات نے ان والدین کے بیانات کو تقویت دی ہے جو سانحے کے بعد اسپتال میں حفاظتی انتظامات اور ریسکیو کارروائی کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے تھے۔
دوسری جانب پمز اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کمیٹی کو مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر کام ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے خود نہیں کرنا ہوتا بلکہ بنیادی ذمہ داری نگرانی کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا کام درست طریقے سے کیا۔
صحافیوں کے سوالات پر رانا عمران سکندر کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت صدمے سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے تحقیقات مکمل ہونے دی جائیں، اس کے بعد کسی پر الزامات عائد کیے جائیں
