نیوز ڈیسک
راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس میں ڈی این اے رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق گھریلو ملازم ذیشان ارشد کا ڈی این اے مقتولہ کے ناخنوں کے نیچے سے حاصل کیے گئے نمونوں سے میچ کرگیا ہے۔ دوسری جانب مقتولہ کے اہلخانہ نے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کیس میں نامزد ملزمان میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر، سسر فیاض اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد شامل ہیں۔ ڈی این اے رپورٹ کی سمری میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کے نمونوں کا ان تینوں افراد سے تعلق سامنے آیا ہے، تاہم اس نتیجے کی قانونی اہمیت اور اس کی مزید تشریح کا تعین تفتیشی عمل کے دوران کیا جائے گا۔
45 سالہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست 2026 کی صبح ان کے گھر کے باتھ روم سے ملی تھی۔ وہ سینیٹ کے سوشل میڈیا ونگ میں کام کرتی تھیں۔
واقعے کے وقت مقتولہ کے دونوں ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے، ان کے منہ پر کپڑا بندھا تھا، جبکہ ان کے گلے میں بجلی کی تار اور چادر کا پھندا موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق، اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے 16 اکتوبر 2026 کو اپنی تحقیقات مکمل کیں، جن میں گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو مرکزی ملزم قرار دیے جانے اور اس کے مبینہ اعترافِ جرم سے متعلق تفصیلات سامنے آئیں۔ تاہم، اعترافِ جرم اور دیگر شواہد کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ عدالتی کارروائی میں ہوگا۔
فرانزک شواہد، بالخصوص مقتولہ کے ناخنوں کے نیچے سے ملنے والے جلد کے ذرات، تحقیقات میں اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس کیس میں پیش رفت کے باوجود مقتولہ کے اہلخانہ نے تفتیش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ ایک آزاد جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر تمام پہلوؤں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔
حنا جاوید کے قتل کے معاملے نے انصاف کی فراہمی، خواتین کے تحفظ اور گھریلو ملازمین کے کردار سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ اہلخانہ اور عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ آئندہ قانونی کارروائی میں فرانزک شواہد، تفتیشی نتائج اور تمام نامزد افراد کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔
