شازیہ محبوب
اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی المناک موت، جو 72 لاکھ روپے کے مبینہ مالی فراڈ کے بعد پیش آئی، نے عوامی تحفظ، ادارہ جاتی احتساب اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے نظام میں موجود سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
اس دلخراش واقعے کے فوری اسباب سے ہٹ کر ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: ریاستی ادارے اکثر اس وقت ہی مؤثر کارروائی کرتے کیوں دکھائی دیتے ہیں جب کوئی سانحہ عوامی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے؟
شہریوں کا تحفظ، انصاف تک رسائی یقینی بنانا اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی محض پالیسیوں کے اعلان یا اداروں کے قیام تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ان کا اصل مقصد شہریوں کو نقصان سے بچانا اور ضرورت کے وقت بروقت مدد فراہم کرنا ہے۔
دنیا بھر میں حکومتیں نوجوان نسل کے لیے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے پالیسیاں بناتی، ادارے قائم کرتی اور وسائل مختص کرتی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں پالیسی سازی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے درمیان فرق ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ اقربا پروری، ذاتی تعلقات اور مفادات کے اثرات سے کمزور ہونے والا نظام اکثر میرٹ، اہلیت اور عوامی خدمت کو وہ ترجیح نہیں دے پاتا جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ نتیجتاً، وہ نوجوان جنہیں ادارہ جاتی تعاون اور مواقع میسر آنے چاہییں، اکثر پیچیدہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا تنہا کرتے ہیں۔
بجلی کی طویل بندش اور ٹریفک کے شدید دباؤ سے لے کر ہراسانی، جنسی تشدد اور آن لائن مالی فراڈ تک، شہریوں کو متعدد ایسے مسائل درپیش ہیں جن کے حل کے لیے بروقت اور مؤثر ادارہ جاتی ردعمل ناگزیر ہے۔ اس کے باوجود، بہت سے شہری اپنی شکایات کی شنوائی اور مسائل کے حل کے لیے میڈیا کا سہارا لینے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ میڈیا کو جہاں احتساب کے ایک اضافی ذریعے کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے، وہاں اس کا ان اداروں کا متبادل بنتے جانا تشویش ناک ہے جن سے شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کی توقع کی جاتی ہے۔
لائبہ کا معاملہ بھی اسی صورت حال کے بارے میں کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے مبینہ فراڈ کی تحقیقات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس واقعے کے پس منظر میں ان نظاموں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جن کا مقصد ایسے استحصال کی روک تھام ہونا چاہیے۔ اگر آن لائن فراڈ سے متعلق شکایات سامنے آتی رہتی ہیں اور شہری مسلسل بھاری مالی نقصانات اٹھاتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور احتیاطی اقدامات کے ذمہ دار ادارے ایسے جرائم کی روک تھام میں کس حد تک مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
آخر کتنی شکایات، تنبیہات اور متاثرین کے سامنے آنے کے بعد ادارے پیشگی کارروائی کو ترجیح دیں گے؟
کیا ہر بار کسی بڑے نقصان یا انسانی المیے کا انتظار ضروری ہے، یا شکایات کے ابتدائی مراحل ہی میں مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
مبینہ ناانصافیوں کو سامنے لانے کے لیے سوشل میڈیا پر عوامی انحصار میں اضافہ بھی اس مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ نور مقدم اور ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل سمیت کئی ہائی پروفائل مقدمات میں عوامی توجہ اور آن لائن بحث نے واقعات کے حالات اور ادارہ جاتی ردعمل پر وسیع تر جانچ پڑتال کی راہ ہموار کی۔ ایسے معاملات میں عوامی دلچسپی احتساب کے مطالبے کو تقویت دے سکتی ہے، لیکن انصاف کی فراہمی کا انحصار کسی مقدمے کے سوشل میڈیا پر مقبول یا وائرل ہونے پر نہیں ہونا چاہیے۔
ہر شہری، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سماجی طبقے سے ہو یا اس کے پاس مالی وسائل اور میڈیا تک رسائی کتنی ہی محدود کیوں نہ ہو، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ انصاف کسی فرد کی سماجی حیثیت یا اس کے معاملے کو ملنے والی عوامی توجہ سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔
لائبہ کا سانحہ محض ایک مبینہ فراڈ کی تحقیقات تک محدود رہنے کے بجائے ادارہ جاتی کمزوریوں کے جامع اور تنقیدی جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ تمام حقائق شفاف انداز میں سامنے لائیں، ممکنہ کوتاہیوں کی نشاندہی کریں اور قانون کے مطابق ذمہ دار پائے جانے والے افراد کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ اس عمل میں نہ صرف مبینہ فراڈ میں ملوث افراد بلکہ متعلقہ نظام کی کارکردگی اور شکایات پر کارروائی کے طریقہ کار کا جائزہ بھی اہم ہے۔
مالی فراڈ کی روک تھام کے لیے شکایات کا فوری جائزہ، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور ایسا قابلِ رسائی نظام ضروری ہے جس کے ذریعے متاثرین بڑے مالی یا ذاتی نقصان سے پہلے مدد حاصل کر سکیں۔ شہریوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دھوکہ دہی کا شبہ ہونے کی صورت میں کہاں رجوع کرنا ہے، ان کی شکایت پر کس طرح کارروائی ہوگی اور انہیں کس نوعیت کی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
مالی استحصال کے نفسیاتی اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بڑی رقم سے محرومی شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے نوجوانوں کے لیے جو خاندانی توقعات، تعلیمی دباؤ اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کر رہے ہوں۔ تاہم، کسی بھی فرد کی خودکشی کو صرف ایک واقعے یا ایک وجہ سے منسوب کرنے کے بجائے اس کے تمام متعلقہ پہلوؤں کو حساسیت اور احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے۔
یونیورسٹیوں کو طلبہ کے لیے قابلِ رسائی نفسیاتی مشاورت، رازداری کے تحفظ کے ساتھ شکایات درج کرانے کے ذرائع اور عملی رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔ طلبہ کو آن لائن فراڈ، جعلی تعلیمی داخلوں اور بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر ہونے والے ممکنہ استحصال کی شناخت کے بارے میں آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ اقدامات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتے، لیکن طلبہ کے تحفظ کے لیے ایک وسیع تر معاون نظام تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صحافیوں اور خبر رساں اداروں کی جانب سے حکام سے سوالات کرنے، عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت متاثر ہو تو شہری احتساب کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہو سکتے ہیں۔
عوامی مفاد میں ہونے والی صحافت کو محدود کرنے سے شہریوں کے مسائل اور شکایات ختم نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے سامنے آنے اور ان کے حل کے امکانات مزید محدود ہو سکتے ہیں۔ ایک آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ورانہ صحافت کو احتساب کے عمل کا لازمی حصہ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ایسا پلیٹ فارم جس سے صرف کسی بحران یا سانحے کے بعد رجوع کیا جائے۔
لائبہ کی موت کو ایک اور افسوس ناک خبر بن کر نہیں رہ جانا چاہیے جسے وقت گزرنے کے ساتھ بھلا دیا جائے اور جس کے بعد کوئی بامعنی اصلاحات نہ ہوں۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عوامی دباؤ بڑھنے پر تحقیقات شروع کی جاتی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا ریاستی ادارے عوامی احتجاج یا میڈیا کی توجہ کا انتظار کیے بغیر نقصان کی روک تھام، شکایات پر فوری کارروائی اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کسی ریاست کی کارکردگی کا پیمانہ محض یہ نہیں کہ اس نے کتنی پالیسیاں متعارف کرائیں یا کتنی تحقیقات کا اعلان کیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے سے پہلے اپنے شہریوں کو کس حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ لائبہ کا معاملہ پاکستان کے متعلقہ اداروں کے لیے حکمرانی، احتساب اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق ان مشکل سوالات کا سامنا کرنے کا موقع ہے جنہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
ہمدردی اور افسوس کا اظہار ضروری ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ اصل ضرورت شفاف احتساب، مالی فراڈ کی مؤثر روک تھام، ذہنی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی اور ایسے ادارہ جاتی نظام کی ہے جس میں انصاف ہر شہری کا حق ہو، نہ کہ ایسی سہولت جو صرف اس وقت میسر آئے جب کسی معاملے کو میڈیا کی توجہ حاصل ہو جائے۔
شازیہ محبوب پی ایچ ڈی اسکالر، وزیٹنگ فیکلٹی ممبر، تفتیشی صحافی اور ThePenPK.com کی بانی ہیں۔ وہ ٹوئٹر (ایکس) پر @thepenpk کے نام سے سرگرم ہیں۔
