خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر پارلیمنٹ میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد : خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے پارلیمانی سطح پر پیش رفت تیز کر دی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے حکومتی اقدامات کی حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس آج طلب کیے گئے ہیں، جن میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس صبح 11 بجے، جبکہ سینیٹ کا اجلاس شام چار بجے منعقد ہوگا۔

حکومت نے اس سلسلے میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے، جس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کا معاملہ زیر غور آئے گا۔ حکومتی اقدامات کو پارلیمانی منظوری دلانے کے لیے ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

دریں اثنا، پیپلز پارٹی نے بھی اس معاملے پر وفاقی حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال اور وفاقی حکومت کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں گورنر راج سے متعلق حکومتی قرارداد پر ووٹنگ میں بھرپور حصہ لے گی، جبکہ مختلف بلوں کی منظوری میں بھی حکومت کی حمایت جاری رکھے گی۔

اسی سلسلے میں ایم کیو ایم پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وفد نے خیبرپختونخوا کے معاملے پر وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبے کے عوام کے بہترین مفاد اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومت کو یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم اسے مثبت جواب نہیں ملا، جبکہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

سیاسی اور پارلیمانی پیش رفت کے ساتھ پشاور میں معمولات زندگی کی بحالی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد مختلف شاہراہوں پر لگائے گئے کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل چکے ہیں اور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس سمیت ٹریفک کی روانی بتدریج بحال ہو رہی ہے۔

تاہم حساس مقامات، خصوصاً ریڈ زون میں سیکیورٹی انتظامات برقرار ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی اب وفاقی حکومت کے لیے اہم مرحلہ بن گئی ہے، جہاں اتحادی جماعتوں کی حمایت ان آئینی اقدامات کی منظوری کے حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.