پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے 17 بچے جاں بحق، 25 سے زائد زخمی

0

نیوز ڈیسک

پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 17 بچے جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے کارروائیاں شروع کر دیں، جبکہ ملبے تلے دبے بچوں اور اسکول کے عملے کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ہسپتال حکام کے مطابق، حادثے میں جاں بحق ہونے والے 17 بچوں کی لاشیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ 25 سے زائد زخمی بچوں کو بھی طبی امداد کے لیے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے اہلکار جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ مقامی رہائشی بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ملبہ ہٹانے اور دبے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

صوبائی حکومت کا زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ہدایت

اس افسوس ناک حادثے پر صوبائی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے ریسکیو اہلکاروں کی فوری کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے۔

اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت پر سوالات

پشاور میں پیش آنے والے اس المناک حادثے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات سے متعلق خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ملک میں رواں سال بھی اسکولوں اور تعلیمی مراکز کی چھتیں گرنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

21 فروری کو سیالکوٹ میں زیرِ تعمیر سرکاری گرلز ہائی اسکول کی چھت گرنے سے آٹھویں جماعت کا ایک طالب علم جاں بحق ہو گیا تھا۔

اسی طرح، 7 مئی کو ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی اسکول کے کمرہ جماعت کی چھت گرنے سے چار طلبہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 2 جولائی کو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں زیرِ تعمیر اسکول کی عمارت کا ایک حصہ گرنے سے آٹھ سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا تھا۔

پشاور میں پیش آنے والے تازہ واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار، تعمیراتی نگرانی اور باقاعدہ معائنے کی ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عمارتوں کی مضبوطی اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

فی الحال، پشاور میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور اسکول کی عمارت کی حالت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں.

Leave A Reply

Your email address will not be published.