غزہ میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ فوجی اڈے کی تعمیر رک گئی

0

نیوز ڈیسک

غزہ: غزہ میں بین الاقوامی فوجیوں کی تعیناتی کے لیے مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر شروع نہ ہو سکی، جبکہ اسرائیل پر منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ب

رطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے سے منسلک اس فوجی تنصیب کی تعمیر دو ماہ سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہے، کیونکہ ٹھیکیداروں، ٹرکوں اور تعمیراتی سامان کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکی۔

یہ مجوزہ فوجی اڈہ غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ وسیع تر سیکیورٹی منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت علاقے میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس فورس کا مقصد جنگ کے بعد غزہ میں سیکیورٹی کے انتظامات میں معاونت فراہم کرنا ہے، تاہم تعمیراتی سرگرمیاں شروع نہ ہونے سے اس منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

امریکی کمپنی کو ٹھیکہ، مگر تعمیراتی کام شروع نہ ہو سکا

رپورٹ کے مطابق، اگست 2026 کے اوائل میں ٹرمپ کے غزہ اقدام سے منسلک امن کمیٹی نے مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر کا ابتدائی ٹھیکہ امریکی ریاست لوزیانا میں قائم کمپنی آرکل انٹرنیشنل کو دیا تھا۔

منصوبے کے تحت فوجی تنصیب کو تقریباً 150 بین الاقوامی فوجیوں کی رہائش اور تعیناتی کے لیے تیار کیا جانا ہے۔ اسے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام اور اس کے عملی انتظامات کی تیاری میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم، ٹھیکہ دیے جانے کے باوجود تعمیراتی کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ *دی گارڈین* نے منصوبے سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی عملے اور ضروری سامان کی آمد میں سہولت فراہم نہ کیے جانے کے باعث کام شروع نہیں ہو سکا۔

رپورٹ میں سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے رسائی کو منصوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے درکار گاڑیوں، مشینری اور سامان کی عدم دستیابی نے منصوبے کے آغاز کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے پابندیوں کی وجوہات سامنے نہ آ سکیں

فوجی اڈے کی تعمیر میں تاخیر کے باوجود اسرائیلی حکام کی جانب سے ان مبینہ پابندیوں کی وجوہات کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ تعمیراتی عملے اور سامان کو غزہ میں داخلے کی اجازت دلانے کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان کوئی مذاکرات جاری ہیں یا نہیں۔

دی گارڈین کے مطابق، امن کمیٹی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے بھی رپورٹ کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سرکاری مؤقف کی عدم موجودگی میں یہ واضح نہیں کہ تعمیراتی سرگرمیاں کب شروع ہو سکیں گی اور منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار انتظامی اور سرحدی مسائل کس طرح حل کیے جائیں گے۔

غزہ کے مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات پر کیا اثر پڑے گا؟

غزہ میں مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر کو صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ جنگ کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کے نئے انتظامات کی تیاری کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر غزہ اقدام کے تحت امن کمیٹی اور بین الاقوامی استحکام فورس سے متعلق تجاویز سامنے آئی تھیں۔

مجوزہ فورس کے لیے ایک مخصوص فوجی تنصیب کی دستیابی اس کے اہلکاروں کی رہائش، نقل و حرکت اور عملی سرگرمیوں کے انتظام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، اڈے کی تعمیر میں تاخیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منصوبے کے عملی نفاذ کے لیے صرف سیاسی حمایت اور ٹھیکے کا اجرا کافی نہیں، بلکہ سرحدی رسائی اور ضروری وسائل کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔

اگر تعمیراتی عملے اور سامان کی آمد سے متعلق مسائل حل نہ ہوئے تو فوجی تنصیب کی تیاری اور اس سے منسلک سیکیورٹی منصوبے کے اگلے مراحل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں

منصوبے کا مستقبل غیر یقینی

تاحال تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے کسی نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔ منصوبے کی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ حکام تعمیراتی سامان، گاڑیوں اور عملے کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے کس حد تک انتظامات کر پاتے ہیں۔

موجودہ صورت حال میں مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر میں تاخیر غزہ کے لیے بین الاقوامی سیکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوششوں کو درپیش عملی مشکلات کو نمایاں کرتی ہے۔ جب تک رسائی اور تعمیراتی وسائل سے متعلق رکاوٹیں دور نہیں ہوتیں، اس منصوبے کی تکمیل اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے وقت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.