تہران
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہم کے نتائج کے حوالے سے ایک نئی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت فریقین ایک عبوری معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کو معاشی، فوجی اور صنعتی سطح پر نمایاں نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم اسے مکمل تباہی سے بچانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے ابتدائی خدوخال سامنے آ چکے ہیں۔ اس فریم ورک کے تحت ایران کے معاشی ڈھانچے اور فوجی صنعت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
سفارت کاروں، سرکاری اہلکاروں اور علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ کوئی بھی فوری معاہدہ دیرپا امن میں تبدیل ہو سکے۔ ان کے مطابق یہ زیادہ تر ایک عارضی جنگ بندی ہو گی، جس کا مقصد کشیدگی میں اضافہ روکنا ہے جبکہ بنیادی تنازعات کو آئندہ مرحلے تک مؤخر کیا جائے گا۔
مجوزہ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، عالمی منڈیوں میں استحکام لانے اور ایران پر اقتصادی دباؤ میں کمی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ امریکی صدر کو سیاسی طور پر قابلِ قبول سفارتی راستہ فراہم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران اس معاہدے کو وقت حاصل کرنے اور اندرونی معاشی دباؤ میں کمی لانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ سخت سیاسی اور سلامتی سے متعلق رعایتوں سے بچنے کی کوشش بھی جاری ہے۔
سابق امریکی سفارت کار ڈینس راس نے کہا ہے کہ اگرچہ اس تنازعے میں کچھ فوجی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن کوئی بنیادی اسٹریٹجک مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ایران یورینیم کی افزودگی ختم کرنے سے انکار کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن سیکیورٹی ضمانتیں دینے پر آمادہ نہیں، اور اسرائیل ایران کو اب بھی ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
ایرانی قیادت کے مطابق ملک کی میزائل صلاحیت، علاقائی اتحاد اور خلیجی توانائی سپلائی لائنز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کو برقرار رکھا جائے گا۔
مزید اطلاعات کے مطابق ایران تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی کو کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ جزوی پیش رفت ممکن ہے، تاہم دونوں فریقوں کے مؤقف میں نمایاں فرق کے باعث مکمل اور دیرپا معاہدہ فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
