زندگی دینے والا دریا، اب بیماریوں کا ذریعہ بن گیا

شازیہ محبوب

0

مانسہرہ

ضلع مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے درمیان بہنے والا دریا مانگل، کچھ سال پہلے اپنے صاف، شفاف اور تیز بہتے پانی کے لیے مشہور تھا، مگر آج یہی دریا ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے ہسپتالوں، صنعتی یونٹس اور شہری علاقوں کے لیے کھلا کوڑا دان بن چکا ہے۔
مانگل دریا صوبہ خیبر پختونخوا کے ہزاره ڈویژن کے علاقوں سے گزرتا ہے اور ضلع مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے سینکڑوں کلومیٹر رقبے سے بہ کردریاے سیرن میں شامل ہوتا ہے، جہاں سے پانی تربیلا ڈیم میں جا ملتا ہے۔
دلاور خان تنولی، بانی “مانگل بچاؤ مہم”، کے مطابق، 2019 کی کورونا وبا کے دنوں میں، جب میں گاؤں گیا، چند دوستوں کے ساتھ دریا کا رخ کیا۔ کنارے پہنچتے ہی ہم سب حیران رہ گئے۔ وہی مانگل دریا، جہاں کبھی نہانے اور دن بھر کی تھکن اتارنے آتے تھے، اب بدبو اور گندگی میں ڈوبا ہوا تھا۔ جو دریا کبھی زندگی اور تازگی کا استعارہ تھا، وہ خاموشی سے ماحولیاتی موت کی طرف بڑھ رہا تھا۔
دلاور خان تنولی کہتے ہیں، ابتدا میں مقامی افراد میں آگاہی کی کمی کے باعث صرف چند لوگ ہی اس جدوجہد میں شامل ہوئے، مگر وقت کے ساتھ یہ دائرہ پھیل گیا۔ آج تقریباً 150 سے 200 نوجوان، جو 50 سے 60 دیہات سے تعلق رکھتے ہیں، دریائے مانگل کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے سرگرم ہیں۔
یہ نوجوان کبھی مولوی صاحبان سے رابطہ کر کے لوگوں میں آگاہی پھیلاتے ہیں، تو کبھی سرکاری دفاتر میں درخواستیں جمع کراتے ہیں تاکہ علاقے کے قدرتی ماحول کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ دلاور تنولی کے مطابق مقامی سطح پر مہم خاصی حد تک کامیاب رہی، مگر نظام اور سرکاری حکام کے ساتھ جدوجہد ابھی جاری ہے، اور انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
مسجد اور سوشل میڈیا، ایک مؤثر ہتھیار
“مانگل بچاؤ مہم” کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آگاہی کے لیے مسجد اور سوشل میڈیا دونوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ مساجد میں مولوی حضرات ہر جمعہ کے خطبے میں ماحولیات، دریا کی اہمیت اور غیر قانونی سرگرمیوں پر بات کرتے ہیں۔
عمر خطاب، امام شاہ کوٹ مسجد، کے مطابق، دریا کے دونوں اطراف گنجان آبادیاں ہیں اور صنعتی یونٹس سے نکلنے والا کیمیکل فضلہ دریا میں شامل ہو رہا ہے، جو پینے، گھریلو استعمال اور کھیتوں کی آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ بیمار ہوتے ہیں، فصلیں متاثر ہوتی ہیں اور معاشی نقصان بڑھتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کی اپیل کی۔
دلاور تنولی کے مطابق سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی آواز کو وسعت دی، مختصر ویڈیوز اور کمیونٹی کی شمولیت سے دریا میں مچھلیوں کی تعداد میں اضافہ اور غیر قانونی شکار میں کمی جیسے فوری نتائج سامنے آئےتاہم، دلاور خان کے مطابق حکومتی عدم توجہ، کمزور نگرانی اور مقامی اداروں کی غفلت کے باعث صنعتی یونٹس اور ہسپتالوں کے مضرِ صحت فضلے کا مؤثر تدارک نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں آلودگی بدستور برقرار ہے۔
مسئلہ ابھی برقرار
یونین کونسل پاوا، تحصیل ایبٹ آباد کے چیئرمین میاں رخسار احمد کے مطابق دیہی علاقوں میں فضلے کے انتظام کا کوئی مستقل نظام موجود نہیں، جبکہ ہسپتالوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والا کیمیکل فضلہ بھی سنگین چیلنج ہے۔ ایبٹ آباد کی ضلعی انتظامیہ کے سربراہ، ڈپٹی کمشنر سرمد سلیم اکرم، کے مطابق گھریلو، صنعتی اور ہسپتالوں کا فضلہ مقامی نالوں اور دریاؤں میں پھینکا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر شعور کی کمی اور انتظامات کا شہری علاقوں تک محدود ہونا اس مسئلے کی بڑی وجوہات میں سے ہے۔
سرمد سلیم اکرم نے اس علاقے کی ایک آبی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ فضلہ مقامی نالوں اور دریاؤں میں پھینکا جا رہا ہے، بلکہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ان کے مطابق پینے کے صاف پانی کی پائپ لائنوں میں سپلائی ہونے والا پانی بھی آلودہ اور مضرِ صحت پایا گیا ہے، جو براہِ راست عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
یونین کونسل پاوا، تحصیل ایبٹ آباد کے چیئرمین میاں رخسار احمد کے مطابق، اس مسئلے کے حل کے لیے تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں واسہ کے ذمہ داران، میونسپل کمیٹی اور کنٹونمنٹ کے اہلکار شامل تھے، تاکہ اس علاقے میں کوڑا کرکٹ پھینکنے پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے باوجود، بعض ادارے کچرا اٹھا کر ندی نالوں اور دریاؤں میں بہا دیتے ہیں
، جس سے بڑے، ناقابل برداشت فضلہ کے ڈھیر بن جاتے ہیں۔ مزید برآں، موجودہ نظام کی کمزوری اور انتظامی خلاء اس بحران کو اور شدید کر رہے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست ماحولیاتی بگاڑ اور انسانی صحت پر پڑ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ماحولیاتی ادارے، ایبٹ آباد کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ادارہ شدید افرادی قلت کا شکار ہے، جبکہ اس کے ذمے ایک وسیع جغرافیائی خطے کی نگرانی ہے۔ اس دائرہ کار میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، شانگلا سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں، جن کی مؤثر نگرانی موجودہ وسائل اور استعداد سے کہیں بڑھ کر ہے۔ افسر کے مطابق محدود عملہ اور ناکافی وسائل ماحولیاتی قوانین کے نفاذ اور مؤثر مانیٹرنگ میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
سینئر افسر کے مطابق اگرچہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال اور بعض ماربل صنعتوں پر جرمانے عائد کیے گئے اور کچھ اداروں نے ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی نصب کیے، تاہم ان پلانٹس کو مستقل طور پر فعال رکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ مؤثر نگرانی اور آپریشنل اخراجات کے فقدان کے باعث یہ ٹریٹمنٹ پلانٹس اکثر غیر فعال یا خراب حالت میں رہتے ہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ بدستور برقرار ہے۔
صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی
ڈاکٹر شائستہ خان، رکن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی، کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ماحولیاتی نگرانی کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہے۔ خیبر پختونخوا میں متعلقہ حکام کو اسلام آباد طلب کیا گیا، مگر ان کا رویہ غیر سنجیدہ رہا۔ خطوط لکھے گئے، اسٹینڈنگ کمیٹیاں قائم کی گئیں، مگر مؤثر کوآرڈینیشن نہ ہو سکی۔
ستھرا پنجاب کے حوالے سے، پاک-ای پی اے اسلام آباد کے ایک سینئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ماحول کو صاف رکھنے کے لیے یہ ایک مثبت اقدام ہے، لیکن ری سائیکلنگ پلانٹس کی غیر موجودگی اس کی پائیداری پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں کچرے کے مؤثر ٹھکانے کا نظام موجود نہیں، اور زمین پر کچرا پھینکنا ماحولیاتی بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔
پاک-ای پی اے اسلام آباد کا حوالا دیتے ہو ٗے اس سینئر افسر کا کہنا تھا کہ دوسرے اداروں کے ماحولیاتی اداروں کے کام میں مداخلت اور ادارے کے محدود عملہ اور وساٰل اس ادارے کی کارکردگی کو متا ثر کر ہے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اسلام اباد میں ماحولیاتی ادارے کو بہت سے مساٗل کا شکار ہیں تو ان صوبوں میں کارکردگی کا اندازہ لاگایا جا سکتیا ہے۔
انسانی صحت اور فضائی آلودگی
ڈپٹی کمشنر اور ڈاکٹر شائستہ خان کے مطابق ہزارہ ریجن میں اگلا سنگین ماحولیاتی بحران فضائی آلودگی ہو سکتا ہے۔ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو پورا ریجن متعدد بیماریوں اور ماحولیاتی تباہیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ مسئلہ صرف ماحول کا نہیں، بلکہ انسانی زندگی، صحت اور مستقبل کا بھی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ایبٹ اباد کے مطابق، صوبائی حکومت کی ماہی گیری کے شعبے میں بڑھتے ہوئے پرمیٹس اور علاقے میں موجود پرانی اور ناکارہ پانی کی اسکیموں میں موضر صحت مواد کی موجودگی ایسے عوامل ہیں جو آنے والے دنوں میں اس علاقے کے لیے مزید سنگین مسائل پیدا کریں گے۔
حوالے سے سابقہ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے رکن مشتاق احمد غنی، جو ایبٹ آباد سے سینیئر سیاستدان اور منتخب نمائندہ ہیں، سے متعدد بار رابطہ کیا گیا اور سوالات بھی بھیجے گئے، مگر ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اداروں کی محدود صلاحیت
پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کے مطابق دیہی علاقوں میں ندیاں اور نالوں کی آلودگی پر کوئی جامع ڈیٹا موجود نہیں۔ بنیادی تحقیق سے ظاہر ہے کہ زیادہ تر زمینی آلودگی انسانی سرگرمیوں، زرعی کیمیکلز، دواسازی، ناقص گندے پانی کے انتظامات اور صنعتی فضلے کی وجہ سے ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ PCRWR ایک وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہے جو پانی کے وسائل، پانی کی کوالٹی، زیرِ زمین پانی، نکاسیٔ آب، آبی وسائل کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ سمیت متعدد شعبوں میں تحقیق اور پالیسی تجاویز فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز پچھلے تین سال سے بغیر چیئرمین کے کام کر رہی ہے۔ ریسرچ کونسل کے سینئر حکام کے مطابق دو ہزار تئیس میں ادارے کی چیئرمین نے اپنے عہدے کی مدت مکمل کی تھی، اور تب سے اب تک کوئی نیا چیئرمین مقرر نہیں کیا جا سکا۔
محکمہ زراعت، پانی، بلدیات، ڈسٹرکٹ مینجمنٹ اور پاک-ای پی اے جیسے ادارے موجود ہیں، مگر محدود انسانی وسائل اور انتظامی صلاحیت کی وجہ سے عملی موجودگی صرف علامتی ہے۔ ایبٹ آباد میں مؤثر ویسٹ مینجمنٹ یا ری سائیکلنگ سسٹم نہ ہونے کے برابر ہے، اور شہری و دیہی دونوں علاقوں میں فضلہ براہِ راست ندی نالوں میں ڈال دیا جاتا ہے، جس سے ماحولیاتی اور انسانی صحت کے شدید خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔
حکمرانی کی ناکامی
معروف پبلک پالیسی ماہر عامر جہانگیر کے مطابق دیہی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔ مؤثر ماحولیاتی حکمرانی کے لیے اداروں کے درمیان تعاون، پانی کی حکمرانی میں اصلاحات، اور موسمیاتی خطرات کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ڈائریکٹر پاک-ای پی اے اسلام اباد ڈاکٹر ضیغم کے مطابق وفاقی سطح پر رہنما خطوط فراہم کیے جاتے ہیں، مگر 18ویں ترمیم کے بعد نفاذ صوبوں پر منحصر ہے، اور سیاسی و انتظامی تنازعات کی وجہ سے مؤثر عمل ممکن نہیں۔
دیہی پاکستان کے دریاؤں کی خاموش موت
مانگل دریا کا مسئلہ صرف ایک مقامی ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں حکمرانی، وسائل اور مؤثر پالیسی کی ناکامی کا مظہر ہے۔ مقامی آگاہی، مسجد اور سوشل میڈیا کی کوششیں اہم ہیں، مگر بغیر مضبوط حکومتی ڈھانچے اور مؤثر پالیسی کے یہ اقدامات وقتی ہیں۔ اگر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف دریاؤں کی بقا خطرے میں ہے، بلکہ لاکھوں افراد کی صحت اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی متاثر ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.