نیوز ڈیسک
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی گارڈ جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
آزاد کشمیر پولیس کے مطابق واقعہ جمعہ کو پیش آیا، جب مسلح افراد نے تنویر الیاس کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس راجہ اکمل نے بتایا کہ حکام کو قافلے پر فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد تحقیقات شروع کردی گئیں۔
سابق وزیر اعظم کے ترجمان کے حوالے سے ڈی آئی جی نے تصدیق کی کہ حملے میں تنویر الیاس کا ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک جبکہ دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے محرکات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی پر زور دیا ہے کہ تمام فریق اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور ایسے
تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، متعدد زخمی
پولیس نے حملے کی تحقیقات شروع کردیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان
مولانا فضل الرحمان کا آزاد کشمیر کشیدگی مذاکرات سے حل کرنے پر زور
بلاول بھٹو زرداری کی پرامن حل کے لیے کوششوں کا حوالہ دیا گیا
اقدامات سے گریز کریں جن سے حالات مزید خراب ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی معاملے کے پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور انہیں حکومت سے بات چیت کے لیے وقت دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کشیدگی کے خاتمے اور خونریزی سے بچنے کے لیے پرامن حل چاہتے ہیں۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
