پسنی
پسنی، 11 جولائی:پسنی کے ساحل پر دو سبز سمندری کچھوؤں کو مقامی ماہی گیروں کے جال میں پھنسنے کے بعد بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچا لیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق 11 جولائی کی صبح ساحل کے قریب اتھلے پانیوں میں مچھلی اور کیکڑے پکڑنے کے لیے لگائے گئے چھوٹے جالوں میں دو سبز سمندری کچھوے پھنس گئے تھے۔ اسی دوران سماجی کارکن اور مصنف شاکر لال ساحل پر صبح کی سیر کر رہے تھے کہ انہوں نے کچھوؤں کو جال میں پھنسا ہوا دیکھا۔
شاکر لال نے فوری طور پر جال کاٹ کر دونوں کچھوؤں کو آزاد کیا اور انہیں بحفاظت واپس سمندر میں چھوڑ دیا۔
سمندری ماہرین نے شاکر لال کے بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری حیات کے تحفظ کی ایک اہم مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سبز سمندری کچھوے افزائش اور گھونسلے بنانے کے لیے اس موسم میں ساحلی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، تاہم ماہی گیری کے دوران استعمال ہونے والے جال بعض اوقات ان کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران پسنی کے ساحل پر متعدد سمندری کچھوے مردہ حالت میں پائے گئے ہیں، جن میں سے کئی کی موت ممکنہ طور پر ماہی گیری کے سامان میں پھنسنے کے باعث ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی میں سمندری حیات کے تحفظ سے متعلق شعور میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب ماہی گیر جالوں میں پھنسنے والے کچھوؤں کو نقصان پہنچانے کے بجائے انہیں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں پسنی اور گوادر کے ساحلی علاقوں سے ایک درجن سے زائد سمندری کچھوؤں کے خول بھی ملے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ نایاب جانور مختلف وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوئے۔
ماہرین نے زور دیا کہ سبز سمندری کچھوے پاکستان کے ساحلی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کے لیے مقامی برادری، ماہی گیروں اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
