اسلام آباد
میٹا کی جانب سے انسٹاگرام کے لیے متعارف کرائی گئی نئی مصنوعی ذہانت (AI) اپ ڈیٹ پر صارفین اور پرائیویسی کے ماہرین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اس کے تحت عوامی (پبلک) تصاویر کو بطور ڈیفالٹ AI سے تیار کردہ تصاویر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
میٹا نے حال ہی میں انسٹاگرام، میٹا اے آئی اور واٹس ایپ پر اپنا نیا AI امیج جنریٹر متعارف کرایا ہے، جس کی مدد سے صارفین مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام اسٹوریز میں نئے بصری (ویژول) ایفیکٹس بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
اس اپ ڈیٹ میں 30 نئے اسٹوری ایفیکٹس شامل کیے گئے ہیں، جن میں ڈسپوزایبل کیمرہ فلٹر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک نیا امیج ایڈیٹر بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو صارفین کو ایفیکٹس لاگو کرنے سے پہلے ان کا پیشگی جائزہ لینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
تاہم، اس فیچر نے پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ موجودہ رول آؤٹ کے مطابق، عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹس خودکار طور پر اس فیچر میں شامل ہو جاتے ہیں، جس کے بعد میٹا اے آئی عوامی طور پر شیئر کی گئی تصاویر کی بنیاد پر AI تصاویر تیار کر سکتا ہے۔ صارفین کسی بھی عوامی انسٹاگرام پروفائل کا حوالہ دے کر اس شخص سے مشابہ AI تصاویر بھی تیار کر سکتے ہیں۔
جو صارفین اپنی تصاویر کے اس استعمال سے بچنا چاہتے ہیں، وہ انسٹاگرام میں پروفائل > مینو > شیئرنگ اینڈ ری یوز (Sharing and Reuse) پر جا کر “Allow people to create and reuse your content” کا آپشن پوسٹس اور ریلز دونوں کے لیے بند کر سکتے ہیں۔
انسٹاگرام کے ہیلپ سینٹر کے مطابق، صارفین کو اس وقت مطلع نہیں کیا جاتا جب ان کے عوامی مواد کو میٹا اے آئی کے ذریعے دوبارہ استعمال کیا جائے۔ مزید یہ کہ یہ سیٹنگ بند کرنے سے صرف آئندہ استعمال روکا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے تیار کی گئی AI تصاویر حذف نہیں ہوں گی۔
میٹا کی جانب سے اس فیچر کو بطور ڈیفالٹ فعال رکھنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ ان کی عوامی تصاویر کو AI مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے ان کی واضح رضامندی حاصل کی جانی چاہیے تھی۔ ناقدین نے رازداری، رضامندی اور تصاویر کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام میٹا کی جانب سے اپنے تمام پلیٹ فارمز پر تخلیقی مصنوعی ذہانت کو مزید وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم اس کے ساتھ صارفین کے مواد کے استعمال، رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔
