ناناوتے: پشتون روایت جو خونی جھگڑوں کو معافی میں بدل دیتی ہے

0

باجوڑ کے قبائلی علاقوں میں ایک قدیم پشتون روایت “ناناوتے” آج بھی خونی تنازعات کو ختم کر کے امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔80 سالہ محمد گل کے مطابق ایک واقعے میں ایک شخص کے قتل کے بعد پورا خاندان خوف اور سماجی دباؤ کا شکار ہو گیا، کیونکہ قبائلی نظام میں جرم کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتے ہیں۔اس موقع پر گاؤں کے بزرگوں اور علماء نے جرگہ تشکیل دیا اور متاثرہ خاندان سے رابطہ کر کے اللہ کے نام پر معافی کی اپیل کی۔ اس روایت میں مجرم اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے اور ہر سزا قبول کرنے کی آمادگی ظاہر کرتا ہے، جبکہ بزرگ فریقین کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ اپیل کامیاب ہوئی اور متاثرہ خاندان نے معافی دے دی، جس سے دشمنی کا خاتمہ ہو گیا اور امن بحال ہو گیا۔ماہرین کے مطابق ناناوتے پشتون معاشرے کا ایک اہم ستون ہے، جو انتقام کے بجائے معافی، عزت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ اس عمل میں اکثر جرگہ اہم کردار ادا کرتا ہے، جس میں بزرگ، علماء اور کمیونٹی کے افراد شامل ہوتے ہیں۔صلح کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان باقاعدہ اجتماع منعقد کیا جاتا ہے، جہاں امن کا اعلان کیا جاتا ہے اور ایک مشترکہ دعوت کے ذریعے نئی شروعات کی جاتی ہے۔باجوڑ سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں ناناوتے کی بدولت کئی دیرینہ دشمنیاں ختم ہو کر دوستی میں بدل چکی ہیں، جو اس روایت کی سماجی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.