فیفا ورلڈ کپ 2026 نے کوارٹر فائنل مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ہی کئی نئے ریکارڈ قائم کرکے فٹ بال کی تاریخ میں اپنی منفرد جگہ بنا لی ہے۔ توسیع شدہ فارمیٹ، ریکارڈ تعداد میں گول، آخری لمحات کے سنسنی خیز فیصلے اور کئی تاریخی سنگ میل اس ایڈیشن کو اب تک کے یادگار ترین ورلڈ کپ میں شامل کر رہے ہیں۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے منفرد ہے۔ یہ پہلا فیفا ورلڈ کپ ہے جس میں 48 ٹیمیں شریک ہیں اور مقابلے تین مختلف ممالک میں منعقد ہو رہے ہیں۔ نئے فارمیٹ کے تحت نہ صرف ٹیموں بلکہ میچوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے باعث یہ فیفا کی تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ بن گیا ہے۔
گولز کی برسات
ٹورنامنٹ کے پہلے 96 میچوں میں مجموعی طور پر 280 گول اسکور کیے جا چکے ہیں، یعنی فی میچ اوسطاً 2.92 گول۔ یہ شرح میکسیکو میں منعقد ہونے والے 1970 کے ورلڈ کپ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مجموعی گولز میں سے تقریباً 74.6 فیصد اوپن پلے کے دوران کیے گئے، جو اس ٹورنامنٹ کے جارحانہ اور تیز رفتار انداز کی عکاسی کرتے ہیں۔
ارجنٹائن اب تک 14 گولز کے ساتھ سب سے زیادہ اسکور کرنے والی ٹیم ہے، جبکہ پری کوارٹر فائنل مرحلے (راؤنڈ آف 16) کے آٹھ میچوں میں 23 گول کیے گئے، جس سے ہائی اسکورنگ کا سلسلہ برقرار رہا۔
آخری لمحات کا ڈرامہ
ناک آؤٹ مرحلہ بھی سنسنی سے بھرپور ثابت ہوا ہے۔ اب تک 24 ناک آؤٹ میچوں میں سے آٹھ کا فیصلہ 85ویں منٹ کے بعد ہونے والے گولز سے ہوا، جبکہ چار مقابلے پنالٹی شوٹ آؤٹ تک جا پہنچے۔
ٹورنامنٹ کا ایک یادگار لمحہ اس وقت سامنے آیا جب ارجنٹائن کے اینزو فرنانڈیز نے مصر کے خلاف 90ویں منٹ میں فاتحانہ گول کیا۔ یہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کا 10واں آخری منٹ میں کیا جانے والا فیصلہ کن گول تھا، جس نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ یہی گول ورلڈ کپ کی تاریخ کا مجموعی طور پر 3 ہزارواں گول بھی ثابت ہوا۔
شاندار کم بیکس
ورلڈ کپ 2026 میں کئی ڈرامائی کم بیکس بھی دیکھنے کو ملیں۔ بیلجیئم نے دو گول کے خسارے سے واپسی کرتے ہوئے سینیگال کو 3-2 سے شکست دی، جبکہ ارجنٹائن نے بھی دو گول پیچھے ہونے کے باوجود مصر کو اسی اسکور سے ہرایا۔
1970 کے بعد یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جس میں ایک سے زیادہ ٹیموں نے دو گول کے خسارے کے بعد میچ جیتنے کا کارنامہ انجام دیا۔
انگلینڈ کا بڑا اپ سیٹ
ٹورنامنٹ کا ایک بڑا اپ سیٹ اس وقت دیکھنے میں آیا جب انگلینڈ نے ایزٹیکا اسٹیڈیم میں میزبان میکسیکو کو 3-2 سے شکست دی۔ انگلش ٹیم نے جریل کوانسا کے ریڈ کارڈ کے بعد تقریباً 40 منٹ تک 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے باوجود کامیابی حاصل کی۔
گولڈن بوٹ کی دلچسپ دوڑ
گولڈن بوٹ کی دوڑ بھی انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ لیونل میسی آٹھ گولز کے ساتھ سرفہرست ہیں، جبکہ کیلیان ایمباپے اور ایرلنگ ہالینڈ سات، سات گولز کے ساتھ ان کے تعاقب میں ہیں۔ ہیری کین چھ گولز کے ساتھ نمایاں پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ پہلا فیفا ورلڈ کپ بھی بن گیا ہے جس میں ایک ہی ایڈیشن کے دوران تین مختلف کھلاڑی کم از کم سات، سات گول کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
میسی اور ایمباپے کے نئے سنگ میل
لیونل میسی نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر میں مجموعی طور پر 21 گولز کرکے تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کی حیثیت مزید مستحکم کر لی ہے۔
دوسری جانب کیلیان ایمباپے کے مجموعی ورلڈ کپ گولز کی تعداد 19 ہو گئی ہے، جبکہ انہوں نے ناک آؤٹ مرحلے میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اپنا ریکارڈ مزید بہتر بناتے ہوئے اسے 11 تک پہنچا دیا ہے۔
نظم و ضبط بھی موضوع بحث
ٹورنامنٹ میں ریفریز کی سختی بھی نمایاں رہی۔ پہلے 96 میچوں کے دوران 259 پیلے اور 14 سرخ کارڈز دکھائے جا چکے ہیں، جو مقابلوں کی شدت اور سخت مقابلے کی عکاسی کرتے ہیں۔
کیا یہ تاریخ کا بہترین ورلڈ کپ ثابت ہوگا؟
کوارٹر فائنل سمیت اب بھی آٹھ میچ باقی ہیں، تاہم اب تک کے اعدادوشمار، سنسنی خیز مقابلے، ریکارڈز اور غیر متوقع نتائج نے ورلڈ کپ 2026 کو یادگار بنا دیا ہے۔ اگر باقی میچز، خصوصاً سیمی فائنلز اور فائنل، اسی معیار کا کھیل اور ڈرامائی لمحات پیش کرتے رہے تو ماہرین کے مطابق یہ ایڈیشن فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کے بہترین ٹورنامنٹس میں شمار ہو سکتا ہے۔
