دھول اور دھواں: کراچی میں سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے

نیوز ڈیسک / اے پی پی

0

کراچی: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دھول کی آلودگی پاکستان، خصوصاً کراچی، میں ماحولیاتی اور صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جہاں بگڑتا ہوا معیارِ ہوا سانس کی بیماریوں میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر راشد علی داؤد پوتا نے کہا ہے کہ کراچی کا معیارِ ہوا تشویشناک حد تک گر چکا ہے اور یہ شہریوں کی صحت کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ ایک مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شہر کی تقریباً 70 فیصد فضا آلودگی سے متاثر ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد روزانہ مضر فضائی ذرات میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، صنعتی اخراج، ٹریفک کا دھواں، تعمیراتی سرگرمیاں اور سبز علاقوں میں کمی فضائی آلودگی میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگرچہ پنجاب میں سردیوں کے دوران اسموگ نمایاں مسئلہ بنتی ہے، تاہم کراچی میں خشک موسم، کچی سڑکیں، تعمیراتی کام اور گاڑیوں کا دھواں سال بھر دھول کی آلودگی کو بڑھاتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر داؤد پوتا کے مطابق دھول اور فضائی آلودگی کی بلند سطح دمہ، دائمی سانس کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے دیگر امراض میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جبکہ بچے، بزرگ اور پہلے سے سانس کے مریض اس کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کی جائے، جبکہ عمودی باغات، چھتوں پر باغات اور انڈور گرین اسپیسز جیسے جدید شہری گرین منصوبوں کو بھی فروغ دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو تیزی سے فروغ دینا نقصان دہ اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں ممکن ہو صبح کے وقت نسبتاً صاف ماحول میں چہل قدمی کریں، دھول سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور آلودگی کی شدت کے دوران حفاظتی ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں بڑھتی فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.