اسلام اباد: دنیا آج ایک مربوط بین الاقوامی نظام سے زیادہ ایک بکھرے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں اتحاد مستقل نہیں اور طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے۔ اسی غیر یقینی ماحول میں پاکستان، خاص طور پر اسلام آباد، اپنی جغرافیائی حیثیت، تاریخی روابط اور خطے میں رابطہ کاری کی صلاحیت کے باعث ایک بار پھر سفارتی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ امریکہ اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا کردار ایک روایتی ریاست سے بڑھ کر ایک ممکنہ سہولت کار کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات جدید تاریخ کے طویل ترین اور پیچیدہ جغرافیائی سیاسی تنازعات میں شمار ہوتے ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مسلسل بڑھتا گیا ہے، جس میں یرغمالی بحران، سخت پابندیاں، جوہری تنازعات اور محدود و جزوی معاہدوں جیسے 2015 کے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) کی کمزوریاں شامل ہیں۔ 2026 میں بھی صورت حال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارت کاری کم اور بالواسطہ رابطے زیادہ ہیں، جو اکثر تیسرے فریقوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں علاقائی ریاستوں کی سفارتی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان اس تناظر میں ایک منفرد جغرافیائی و سیاسی مقام رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد نہ صرف جغرافیائی قربت کی علامت ہے بلکہ ایک عملی حقیقت بھی ہے جس کے اثرات پاکستان کی داخلی سلامتی، معیشت اور سرحدی استحکام تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے سرحدی علاقے، غیر رسمی نقل و حرکت، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سیکیورٹی چیلنجز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران میں عدم استحکام پاکستان کے لیے محض بیرونی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ یہی باہمی انحصار پاکستان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں دلچسپی رکھنے والی ریاست بناتا ہے۔
اقتصادی سطح پر پاکستان اور ایران کے تعلقات اپنی مکمل صلاحیت سے کہیں کم ہیں۔ دوطرفہ تجارت عموماً 3 ارب ڈالر سالانہ سے بھی کم رہی ہے، حالانکہ دونوں ممالک کی جغرافیائی قربت اور توانائی کی تکمیلی ضروریات واضح ہیں۔ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے اس تعلق کی ممکنہ وسعت کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی عملی رکاوٹوں کو بھی۔ بین الاقوامی پابندیاں، مالیاتی مشکلات اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش نے ان منصوبوں کو بارہا تعطل کا شکار کیا ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ علاقائی خواہشات اکثر عالمی سیاست کے دباؤ میں محدود ہو جاتی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی یکساں طور پر پیچیدہ اور متغیر رہے ہیں۔ سرد جنگ اور بعد از 9/11 کے دور میں یہ تعلقات اسٹریٹجک تعاون اور بھاری امداد کے گرد گھومتے رہے، مگر حالیہ برسوں میں یہ تعلق زیادہ عملی اور محدود نوعیت اختیار کر چکا ہے، جس میں اقتصادی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور سیکیورٹی تعاون مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اگرچہ مشرق وسطیٰ کے کسی باقاعدہ امریکی اتحاد کا حصہ نہیں، لیکن اس کے پاس ایسے سفارتی چینلز موجود ہیں جو خطے سے متعلق معاملات میں اسے قابلِ رابطہ فریق بناتے ہیں۔
یہی توازن پاکستان کو ایک منفرد پوزیشن دیتا ہے۔ آج کے بین الاقوامی نظام میں اثر و رسوخ صرف عسکری طاقت یا معاشی برتری سے نہیں بلکہ مختلف متضاد فریقوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے کی صلاحیت سے بھی طے ہوتا ہے۔ پاکستان کی ایک طرف تہران اور دوسری طرف واشنگٹن کے ساتھ بیک وقت سفارتی وابستگی اسے ایک ممکنہ “پل” کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے—خاص طور پر ایسے وقت میں جب براہِ راست مذاکرات سیاسی طور پر مشکل یا غیر ممکن ہوں۔
تاہم اس کردار کو محض صلاحیت کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ علاقائی سیاست میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے طاقت کے ڈھانچوں سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی سفارتی سرگرمیاں اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات پاکستان کے لیے ایک اضافی اسٹریٹجک چیلنج پیدا کرتے ہیں، جہاں بیانیہ اور اثر و رسوخ دونوں کی جنگ جاری ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا سفارتی ماڈل نسبتاً توازن اور محتاط مشغولیت پر مبنی ہے، جو اسے براہِ راست تصادم سے بچاتے ہوئے مختلف بلاکس کے ساتھ رابطے میں رکھتا ہے۔
آخر میں، پاکستان کا سفارتی کردار نہ تو مکمل ثالثی کی طاقت ہے اور نہ ہی مکمل غیر جانبداری۔ یہ ایک ایسی ریاست کا کردار ہے جو بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اپنی جغرافیائی حقیقت، تاریخی روابط اور اسٹریٹجک ضرورتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بکھرے ہوئے بین الاقوامی نظام میں اسلام آباد کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی بڑی طاقت بن سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی موجودہ پوزیشن کو کس حد تک مؤثر، مستحکم اور قابلِ اعتماد سفارتی اثر میں بدل سکتا ہے۔