ماحولیاتی صحافیوں کو درپیش غیر مرئی خطرات: سچ کی قیمت

0

کراچی: پاکستان میں ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو نہ صرف قدرتی آفات بلکہ طاقتور مفادات سے جڑے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ غیر قانونی جنگلات کی کٹائی، صنعتی آلودگی اور حکومتی غفلت جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی اکثر دھمکیوں، ہراسانی اور حتیٰ کہ جان لیوا حملوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2024 کے دوران دنیا بھر میں 1,700 سے زائد صحافی قتل کیے گئے جن میں سے 85 فیصد کیسز میں مجرموں کو سزا نہیں مل سکی۔ اسی طرح ماحولیاتی صحافت سے وابستہ صحافیوں پر حملوں میں 2019 سے 2024 کے درمیان 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔پاکستان میں صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے 2025 پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں 158 ویں نمبر پر ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران 6 صحافی قتل، 11 پر قاتلانہ حملے اور صحافت کی آزادی کی 140 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔خواتین صحافیوں کو فیلڈ کے ساتھ ساتھ آن لائن ہراسانی کا بھی سامنا ہے، جہاں دھمکیوں اور بدسلوکی کے واقعات عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق صحافیوں کے تحفظ کے بغیر ماحولیاتی صحافت ممکن نہیں، اور اس کے بغیر متاثرہ کمیونٹیز کی آواز دنیا تک نہیں پہنچ سکتی۔اگرچہ حکومت کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے قوانین اور کمیشن قائم کیے گئے ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث صحافی آج بھی غیر محفوظ ہیں۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا سچی اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے ناگزیر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.