بریڈفورڈ: ایران کے ساتھ جاری جنگ اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور فی الحال اس کے جلد خاتمے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، اس جنگ کے دائرۂ کار میں بتدریج وسعت آتی محسوس ہو رہی ہے، جس سے یہ خدشہ بھی جنم لے رہا ہے کہ کہیں یہ ایک وسیع تر تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار نہ کر
لے۔
بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ جنگ کسی محدود اسٹریٹجک کارروائی کے بجائے جغرافیائی سیاسی عزائم، غلط اندازوں اور طاقت کے توازن کی پیچیدہ کشمکش کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ تاہم کچھ تبصرہ نگار اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اسے مغربی دنیا اور مسلم دنیا کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی تناؤ کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں—ایسا تناؤ جس کی جڑیں قرونِ وسطیٰ کی صلیبی جنگوں
تک جا پہنچتی ہیں۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو موجودہ محاذ آرائی محض عسکری حکمتِ عملی، سیاسی اثر و رسوخ یا مشرقِ وسطیٰ کے وسائل پر کنٹرول کی جنگ نہیں رہتی۔ بلکہ اسے ایک طویل تاریخی بیانیے کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے، جسے صدیوں پر محیط رقابت، باہمی بداعتمادی اور مذہبی و تہذیبی شناختوں کے تصادم نے تشکیل دیا ہے۔ یروشلم، جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں کے لیے مقدس شہر ہے، پر اسرائیلی کنٹرول کو بھی بعض حلقے اسی تاریخی پس منظر کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے اور اس شہر کو باضابطہ طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو بھی کئی مبصرین اسی طویل تاریخی کشیدگی کی ایک نئی کڑی قرار دیتے ہیں۔ اس اقدام نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ واشنگٹن نے خود کو مکمل طور پر اسرائیل کے سیاسی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ
کر لیا ہے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک ایسا قریبی اتحادی میسر آیا جو فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے اور “گریٹر اسرائیل” کے تصور کو آگے بڑھانے کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی قیادت طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے بنیادی علاقائی حریف اور ایک بڑی اسٹریٹجک رکاوٹ کے
طور پر دیکھتی آئی ہے۔
امریکہ کے حوالے سے یہ مؤقف بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ مسلم ممالک کو کمزور کرنا یا ان کو اپنے اثر رسوخ میں لانے کی پالیسی پر یہ ایک طویل سے گامزن ہے اور اس اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا حصہ رہی بلخصوس ایسی ریاستوں کو کمزور کرنا جو مشرقِ وسطیٰ میں مغربی یا اسرائیلی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ عراق، لیبیا اور شام میں ہونے والی مغربی مداخلتیں اس تناظر میں اکثر زیرِ بحث آتی ہیں۔ ان کارروائیوں کو بظاہر آمرانہ حکمرانوں کو ہٹانے یا انسانی بحرانوں کو روکنے کے نام پر جائز قرار دیا گیا، مگر ان کے نتیجے میں پورے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ
ہوا۔
صدام حسین، معمر قذافی اور بشار الاسد جیسے رہنماؤں کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان ممالک کے اندر اپوزیشن تحریکوں کی مختلف سطحوں پر حمایت یا حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ جب داخلی عدم استحکام بڑھا تو مغربی مداخلت کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی بڑی ریاستیں طویل سیاسی بحران اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔
اس تناظر میں اس حکمتِ عملی کے دو بنیادی پہلو پیش پیش ہیں:
اول، ایسی مضبوط علاقائی طاقتوں کو کمزور کرنا جو مغربی اثر و رسوخ کی مزاحمت کر سکتی ہوں؛اور دوم، باقی ریاستوں کو اپنی سلامتی کے لیے معاشی یا عسکری طور پر انحصار کرنے پر مجبور کرنا۔
اس پس منظر میں ایران ایک ایسی بڑی علاقائی طاقت کے طور پر سامنے آتا ہے جو کھلے عام امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کو چیلنج کر رہی ہے اور خطے میں ان کے منصوبوں کی مخالفت کرتی دکھائی
دیتی ہے۔
اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو بارہویں صدی میں، جب صلاح الدین ایوبی نے صلیبی قوتوں کا مقابلہ کیا، اس وقت مسلم دنیا شدید انتشار کا شکار تھی۔ عباسی خلافت اپنی عملی سیاسی قوت کھو چکی تھی، مختلف خاندان اقتدار کے لیے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار تھے اور نظریاتی اختلافات نے اجتماعی مزاحمت کو کمزور کر دیا تھا۔ اسی داخلی تقسیم نے صلیبی ریاستوں کو مشرقی بحیرۂ روم کے خطے میں اپنے قدم جمانے کا موقع فراہم کیا۔
آج کے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اسی تاریخی کی عکاسی کرتی ہے ، ایک ایسا خطہ جو باہمی رقابتوں میں بٹا ہوا ہے، داخلی تنازعات سے کمزور ہو چکا ہے اور ایک متحد سیاسی ردِعمل تشکیل دینے میں دشواری کا سامنا کر رہا ہے۔ چاہے یہ تقابل تاریخی طور پر مکمل طور پر درست ہو یا محض خطیبانہ مبالغہ، علاقائی سیاسی مباحث میں اس کی بازگشت نمایاں طور پر سنائی دیتی ہے۔
حال ہی میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی جانب سے دیا گیا ایک بیان بھی توجہ کا مرکز بنا، جس میں انہوں نے عرب ممالک کو خبردار کیا کہ اگر وہ آج ایران کی حمایت نہیں کرتے تو مستقبل
میں انہیں ایک زیادہ طاقتور اسرائیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بالآخر موجودہ جنگ کو “چوتھی صلیبی جنگ” قرار دینا شاید حقیقت
سے زیادہ ایک علامتی یا استعارتی تعبیر ہو۔ تاہم اس اصطلاح کا بار بار استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تاریخی یادداشت کس قدر گہرائی سے جدید جغرافیائی سیاست کو متاثر کرتی ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں ماضی کبھی مکمل طور پر ماضی نہیں بنتا، معاشروں کے اختیار کردہ بیانیے بعض اوقات فوجی طاقت جیسی اثر انگیزی رکھتے ہیں۔