پاکستان کی بھارت کو ٹنڈولکر کی سنچری کے باوجود شکست

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد:پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ مقابلے ہمیشہ جذبات، دباؤ اور یادگار لمحات سے بھرپور رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک تاریخی مقابلہ 1996 کے سنگر کپ میں ہوا، جب سچن ٹنڈولکر کی شاندار سنچری کے باوجود پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر کرکٹ دنیا کو حیران کر دیا۔
5 اپریل 1996 کو سنگاپور کے تاریخی میدان دی پڈانگ میں کھیلے گئے سہ ملکی ون ڈے ٹورنامنٹ کے اس میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کی، جہاں ٹنڈولکر نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف اپنی پہلی ون ڈے سنچری اسکور کی۔
ٹنڈولکر کی سنچری، بھارت کا مضبوط آغاز
بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 47.1 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 226 رنز بنائے، تاہم بارش کے باعث اننگز متاثر ہوئی۔
سچن ٹنڈولکر نے 111 گیندوں پر 100 رنز کی یادگار اننگز کھیلی، جس میں 9 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ یہ ان کی ون ڈے کرکٹ میں ساتویں سنچری تھی اور پاکستان کے خلاف پہلی سنچری بھی۔
سنجے منجریکر نے 41 رنز بنا کر ان کا ساتھ دیا، جبکہ محمد اظہر الدین نے 29 رنز اسکور کیے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے 14 رنز اور انیل کمبلے نے ناقابل شکست 14 رنز کا اضافہ کیا، جس سے بھارت ایک مضبوط مجموعے تک پہنچا۔
پاکستانی بولرز کا دباؤ
بھارت کے مضبوط اسکور کے باوجود پاکستانی بولرز نے اسے کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
آف اسپنر ثقلین مشتاق نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 10 اوورز میں صرف 38 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے اسپیل نے بھارت کی رفتار کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عاقب جاوید اور عامر سہیل نے بھی اہم وکٹیں حاصل کرکے بھارت کو بڑے اسکور سے دور رکھا۔
بارش کے بعد پاکستان کا جارحانہ جواب
بارش کے بعد پاکستان کو 33 اوورز میں 187 رنز کا نظرثانی شدہ ہدف ملا، لیکن گرین شرٹس نے دباؤ کے بجائے جارحانہ انداز اپنایا۔
پاکستان نے صرف 28 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز بنا کر آٹھ وکٹوں سے شاندار فتح حاصل کرلی۔
اوپنر سعید انور نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے میچ کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے صرف 49 گیندوں پر 74 رنز بنائے، جس میں 8 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔
دوسرے اینڈ پر عامر سہیل نے ذمہ داری کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے 89 گیندوں پر ناقابل شکست 76 رنز اسکور کیے۔ ان کی اننگز میں 7 چوکے شامل تھے۔
سلیم ملک نے بھی ناقابل شکست 25 رنز بنا کر پاکستان کو کامیابی تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
عامر سہیل کی آل راؤنڈ کارکردگی
اس میچ کے اصل ہیرو عامر سہیل ثابت ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف بلے سے میچ وننگ اننگز کھیلی بلکہ گیند سے بھی اہم کردار ادا کیا۔
ان کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پر انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
بھارت کے باؤلنگ اٹیک میں انیل کمبلے اور وینکٹاپتھی راجو جیسے اسپنرز شامل تھے، لیکن وہ پاکستان کی جارحانہ بیٹنگ کے سامنے صرف دو وکٹیں حاصل کر سکے۔
ایک یادگار مقابلے کی کہانی
اس فتح نے سنگر کپ میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط کی، جہاں پاکستان اور سری لنکا نے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
یہ میچ آج بھی اس لیے یاد کیا جاتا ہے کہ ایک طرف سچن ٹنڈولکر کی شاندار سنچری تھی، تو دوسری طرف پاکستان کی متوازن ٹیم کارکردگی، جس نے ایک عظیم انفرادی پرفارمنس پر اپنی اجتماعی کوشش سے سبقت حاصل کرلی۔
1996 کا یہ مقابلہ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ دشمنی کے ان یادگار بابوں میں شامل ہے، جہاں دباؤ کے بڑے لمحے میں پاکستان نے شاندار ردعمل دکھاتے ہوئے تاریخی کامیابی حاصل کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.