چھ سال بعد بابر اعظم کی کپتانی، کیا پاکستان بدل پائے گا قسمت؟

0

نیوز ڈیسک
پورٹ آف اسپین:کبھی ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے یادگار حریف سمجھی جانے والی پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں ایک بار پھر کیریبین میں آمنے سامنے ہیں، لیکن اس بار مقابلہ صرف فتح کے لیے نہیں بلکہ اپنی کھوئی ہوئی شناخت اور ٹیسٹ کرکٹ میں مقام بحال کرنے کی جنگ ہے۔
1980 کی دہائی میں دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والی سنسنی خیز مقابلوں نے کرکٹ شائقین کے دلوں میں خاص مقام بنایا تھا، تاہم وقت کے ساتھ یہ روایتی دشمنی اپنی پرانی شدت کھو چکی ہے۔ اب دونوں ٹیمیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے اور زوال سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں دونوں ٹیمیں چیمپئن شپ ٹیبل کے نچلے حصے میں موجود ہیں۔ پاکستان اپنے گزشتہ 16 ٹیسٹ میچز میں 12 شکستوں کا سامنا کر چکا ہے، جبکہ ویسٹ انڈیز نے اپنے آخری 10 ٹیسٹ میں صرف ایک کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ اعداد و شمار دونوں ٹیموں کے حالیہ مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔
ویسٹ انڈیز کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ
کیریبین ٹیم کو اس سیریز میں ہوم کنڈیشنز کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ویسٹ انڈیز اپنی حالیہ سیریز میں سری لنکا کو شکست دے کر اعتماد کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے، جہاں عامر جنگو کی شاندار ڈبل سنچری نے ٹیم کی بیٹنگ صلاحیتوں کو نمایاں کیا۔
ویسٹ انڈیز کی سب سے بڑی طاقت اس کا تیز رفتار باؤلنگ اٹیک ہے۔ شمر جوزف کی رفتار، جےڈن سیلز کی درست لائن و لینتھ اور تجربہ کار کیمار روچ کی مہارت پاکستان کے بلے بازوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
کیمار روچ 300 ٹیسٹ وکٹوں کا سنگ میل عبور کر چکے ہیں اور الزاری جوزف کی عدم موجودگی میں ان پر اضافی ذمہ داری ہوگی۔ پاکستان کے خلاف ان کا ریکارڈ بھی انہیں خطرناک باؤلر بناتا ہے۔
اگر ٹرینیڈاڈ کی پچ اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوئی تو جومیل واریکن اور کپتان روسٹن چیز بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بابر اعظم کی واپسی، پاکستان کی نئی امید
پاکستان کے لیے سب سے بڑی تبدیلی قیادت کے محاذ پر ہے۔ شان مسعود کے 30 ماہ کے دور کے اختتام کے بعد بابر اعظم ایک بار پھر ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھال رہے ہیں۔
بابر کی واپسی کو ٹیم میں استحکام لانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان کے مسائل صرف کپتانی تک محدود نہیں۔ ٹیم کو بیٹنگ میں مستقل مزاجی، بہتر کارکردگی اور درست باؤلنگ کمبی نیشن کی تلاش کا چیلنج درپیش ہے۔
عامر جمال، پاکستان کا اہم ہتھیار
پاکستان کے لیے آل راؤنڈر عامر جمال کی واپسی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ وہ ٹیم کو وہ توازن فراہم کرتے ہیں جس کی ٹیسٹ کرکٹ میں اکثر ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
عامر جمال نہ صرف رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ایک مؤثر فاسٹ باؤلنگ آپشن بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے پاکستان کو حالات کے مطابق حکمت عملی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب نوجوان اوپنر اذان اویس بھی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ 21 سالہ بلے باز نے ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری اور وارم اپ میچ میں بھی شاندار اننگز کھیل کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا، تاہم ویسٹ انڈیز کے مضبوط پیس اٹیک کے خلاف ان کا اصل امتحان ہوگا۔
نیا میدان، پرانی رقابت
سیریز کا پہلا ٹیسٹ ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جائے گا، جو ایک نیا مقام ہے۔ جولائی کے موسم میں بارش میچ پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ پچ کے سست اور بیٹنگ کے لیے سازگار ہونے کی توقع ہے۔
اگرچہ دونوں ٹیمیں حالیہ برسوں میں مشکلات کا شکار رہی ہیں، لیکن ان کے درمیان مقابلے اب بھی دلچسپ رہے ہیں۔ 2021 میں ویسٹ انڈیز کی ایک وکٹ سے ڈرامائی فتح اور 2017 میں پاکستان کی کیریبین میں 2-1 سے سیریز جیت اس رقابت کی یادگار مثالیں ہیں۔
تاریخ نہیں، کارکردگی فیصلہ کرے گی
ویسٹ انڈیز نے سال 2000 کے بعد کسی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو شکست نہیں دی، جبکہ گزشتہ سات سیریز میں سے چار برابر رہی ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں ماضی کا ریکارڈ فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرے گا۔
ویسٹ انڈیز کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ہوم گراؤنڈ پر کامیابی حاصل کرکے ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پوزیشن بہتر کرے، جبکہ پاکستان کے لیے یہ ثابت کرنے کا وقت ہے کہ بابر اعظم کی واپسی اور نئی حکمت عملی ٹیم کو دوبارہ کامیابی کی راہ پر لا سکتی ہے۔
ایک ایسی دشمنی جس نے کبھی ٹیسٹ کرکٹ کے ایک دور کی تعریف کی تھی، شاید آج پہلے جیسا عالمی وزن نہ رکھتی ہو، لیکن کیریبین میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے پاس اب بھی بہت کچھ ثابت کرنے کے لیے موجود ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.