جنرل عامر رضا کون ہیں؟

نیوز ڈیسک

0

نیوز ڈیسک
اسلام آباد: پاکستان کی عسکری قیادت میں ایک اہم تبدیلی کے بعد لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے تحت قائم نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (این ایس سی) کے پہلے کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
24 جولائی 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی سربراہی سونپی۔ یہ تقرری انہیں پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں، دفاعی منصوبہ بندی اور قومی سلامتی سے متعلق حساس امور کی نگرانی کے اہم منصب پر لے آئی ہے۔
تقریباً چار دہائیوں پر محیط فوجی کیریئر رکھنے والے جنرل عامر رضا کا شمار پاک فوج کے ان سینئر افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے آپریشنل کمانڈ، عسکری حکمت عملی، دفاعی پیداوار اور فوجی تربیت کے مختلف شعبوں میں اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔
بکتر بند رجمنٹ سے اعلیٰ عسکری قیادت تک
جنرل عامر رضا کا عسکری سفر 1988 میں پاکستان آرمی کی معروف بکتر بند رجمنٹ 6th Lancers سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے کمیشن حاصل کیا۔ ابتدائی دور سے ہی وہ بکتر بند جنگی حکمت عملی، کمانڈ اور فوجی قیادت کے شعبوں سے وابستہ رہے۔
نومبر 2007 سے ستمبر 2009 تک انہوں نے 6th Lancers کی کمانڈ کی، جس کے بعد ان کا شمار فوج کے اہم کمانڈرز میں ہونے لگا۔ انہوں نے ایک آرمرڈ بریگیڈ، جنوبی وزیرستان میں ایک انفنٹری بریگیڈ اور بعد ازاں ایک انفنٹری ڈویژن کی قیادت کی۔
ان کے کیریئر میں اہم اسٹاف ذمہ داریاں بھی شامل رہیں۔ وہ II کور میں چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز رہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل ہتھیاروں اور آلات کی ڈائریکٹوریٹ کی سربراہی بھی انجام دی۔
میدان جنگ کے ساتھ علمی سفر
جنرل عامر رضا نے عملی عسکری تجربے کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی۔
انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے اعلیٰ عسکری تربیت حاصل کی، جبکہ برطانیہ کی ناٹنگھم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ڈگری حاصل کی۔
وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں آرٹس اینڈ سائنس آف وارفیئر اور دفاعی و اسٹریٹجک اسٹڈیز سے بھی وابستہ رہے۔
فوجی تعلیم کے شعبے میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ اسکول آف آرمر اینڈ میکانائزڈ وارفیئر میں انسٹرکٹر، فیکلٹی آف ریسرچ اینڈ ڈاکٹرنل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں چیف انسٹرکٹر کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔
اہم عہدوں سے گزرتا ہوا سفر
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی قیادت سے قبل جنرل عامر رضا کئی اہم عسکری ذمہ داریوں پر فائز رہے۔
اپریل 2020 میں انہیں پاکستان کی دفاعی پیداوار کے اہم ادارے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) کی سربراہی سونپی گئی۔ بعد ازاں 11 اکتوبر 2022 کو انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
مئی 2023 کے بعد انہیں لاہور میں تعینات اہم ترین فوجی فارمیشن IV کور کی کمانڈ دی گئی، جہاں انہوں نے ایک حساس اور اہم ذمہ داری نبھائی۔
جنوری 2025 میں انہیں چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) مقرر کیا گیا، جس کے تحت انہوں نے پاک فوج کے اہم انتظامی، آپریشنل اور پالیسی معاملات میں کردار ادا کیا۔
نئی ذمہ داری، نیا باب
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے پہلے کمانڈر کے طور پر جنرل عامر رضا کی تعیناتی ان کے طویل عسکری سفر کا ایک اہم مرحلہ قرار دی جا رہی ہے۔
دفاعی منصوبہ بندی، آپریشنل کمانڈ اور اسٹریٹجک امور میں ان کا وسیع تجربہ انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے موزوں بناتا ہے۔
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے تحت کام کرتی ہے، جو پاکستان کی اسٹریٹجک پالیسیوں اور متعلقہ صلاحیتوں کی نگرانی کرتی ہے۔
اعزازات اور خدمات کا اعتراف
طویل عسکری خدمات کے اعتراف میں جنرل عامر رضا کو متعدد قومی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں شامل ہیں:
ہلال امتیاز (ملٹری)
ستارہ بسالت
چار دہائیوں پر محیط فوجی سفر، مختلف اہم کمانڈ ذمہ داریوں اور دفاعی حکمت عملی کے تجربے کے بعد جنرل عامر رضا اب پاکستان کی ایک انتہائی حساس اور اہم عسکری کمانڈ کی قیادت کر رہے ہیں، جہاں ان کا کردار قومی سلامتی کے وسیع تر فریم ورک میں اہمیت کا حامل ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.