باجوڑ کا تیندوہ: انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتا تصادم

شاہ خالد شاہ

0

باجوڑ:باجوڑ کے دشوار گزار پہاڑوں میں، جہاں انسان اور جنگلی حیات صدیوں سے ایک ہی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، ایک عام تیندوے کی ہلاکت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ انسانی ضروریات اور نایاب جانوروں کے تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
تحصیل وار ماموند کے دور افتادہ علاقے سپرے منڈوگئی میں مقامی افراد نے ایک عام تیندوے کو مار دیا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ کئی ہفتوں سے ان کے مویشیوں پر حملے کر رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مردہ تیندوے کو دکھایا گیا، جبکہ دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ جانور کے حملوں سے انہیں لاکھوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
پہاڑی علاقوں میں رہنے والی برادریوں کے لیے مویشی صرف جانور نہیں بلکہ ان کی آمدنی اور معاشی تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق، مسلسل حملوں نے ان کی روزی روٹی کو متاثر کیا اور انہیں مزید نقصان کا خدشہ تھا۔
تاہم، جنگلی حیات کے ماہرین کے لیے یہ واقعہ تشویش کا باعث ہے، کیونکہ عام تیندوہ پہلے ہی پاکستان میں بقا کے کئی خطرات سے دوچار ہے۔
وائلڈ لائف حکام کی تحقیقات
واقعے کے بعد باجوڑ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے تحقیقات شروع کر دیں۔ ڈویژنل فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف آفیسر باجوڑ نوید علی کے مطابق، اہلکاروں نے تیندوے کی کھال برآمد کر لی، جبکہ باقیات کو مزید قانونی اور سائنسی کارروائی کے لیے محکمہ کے دفتر منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
کیا معاوضہ تنازع کم کر سکتا ہے؟
تیندوے کی ہلاکت نے ایک اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر جنگلی جانور مویشیوں کو نقصان پہنچائیں تو متاثرہ کمیونٹیز کے لیے کیا مدد موجود ہے؟
باجوڑ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے سوشل آرگنائزر اور ماہر حیوانات محمد طیب کے مطابق، جنگلی حیات سے ہونے والے نقصانات کے لیے معاوضے کا نظام موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد سرکاری طریقہ کار کے تحت نقصان کی تفصیلات جمع کرا سکتے ہیں، جس کے بعد محکمہ تصدیق کے بعد معاوضے کی کارروائی شروع کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے بارے میں آگاہی بڑھانے سے لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے واقعات کی اطلاع دینے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔
آگاہی کا خلا
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی شروع ہوئی کہ کیا مقامی آبادی میں جنگلی حیات کے قوانین اور دستیاب سہولیات سے متعلق آگاہی کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق باجوڑ میں وقتاً فوقتاً آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں، جبکہ مقامی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ شہریوں اور محکمہ جنگلی حیات کے درمیان رابطہ بہتر بنایا جا سکے۔
بقا کی جنگ لڑتا عام تیندوہ
عام تیندوے کو عالمی ادارہ تحفظ فطرت کی ریڈ لسٹ میں “Vulnerable” یعنی خطرے سے دوچار نسل قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں اس نسل کو سکڑتے جنگلات، غیر قانونی شکار، خوراک کی کمی اور انسانی آبادیوں کے پھیلاؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ قدرتی مسکن کم ہونے کے باعث تیندوے اکثر خوراک کی تلاش میں انسانی آبادیوں کے قریب آ جاتے ہیں، جس سے تصادم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ایسے حالات میں انتقامی کارروائیاں تیندوؤں کی آبادی کے لیے بڑا خطرہ بن جاتی ہیں۔
عوامی ردعمل: تحفظ یا بقا؟
باجوڑ کے واقعے پر عوامی ردعمل بھی مختلف رہا۔ کئی افراد نے تیندوے کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے قانونی کارروائی اور جنگلی حیات کے تحفظ کا مطالبہ کیا، جبکہ کچھ لوگوں نے مقامی آبادی کے مسائل کو نظر انداز کرنے پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
کچھ رہائشیوں کا موقف تھا کہ مویشیوں کے نقصان کا فوری حل فراہم کیے بغیر صرف مقامی افراد کو ذمہ دار قرار دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
ایک مشکل توازن کی تلاش
باجوڑ کا واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ صرف قوانین سے ممکن نہیں، بلکہ ان علاقوں میں رہنے والی کمیونٹیز کا تعاون بھی ضروری ہے۔
حکام کے مطابق محفوظ نسلوں کے تحفظ کے لیے غیر قانونی شکار اور قتل کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جنگلی جانوروں سے متعلق واقعات کی اطلاع دیں اور انہیں نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔
باجوڑ کے مقامی لوگوں کے لیے یہ تیندوہ ایک خطرہ تھا، جبکہ تحفظ پسندوں کے لیے یہ معدومیت کے خطرے سے دوچار ایک نایاب نسل کا حصہ تھا۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ ایسا راستہ تلاش کیا جائے جہاں انسان اور جنگلی حیات دونوں محفوظ رہ سکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.