اسلام آباد:راول جھیل کے کنارے ہزاروں مردہ مچھلیوں کا منظر ماحولیاتی تشویش کی ایک نئی لہر لے آیا ہے۔ کبھی شفاف پانی کے اندر تیرتی نظر آنے والی مچھلیاں اب کناروں پر بے جان پڑی ہیں، جبکہ پانی اور فضا میں پھیلتی بدبو نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر جھیل میں ایسا کیا ہوا؟
راول جھیل محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے پانی کے اہم ذخائر میں شامل ہے۔ ایسے میں بڑی تعداد میں مچھلیوں کی ہلاکت صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت اور آبی تحفظ سے جڑا معاملہ بھی ہے۔
گزشتہ برسوں میں بھی راول جھیل میں مچھلیوں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم کئی مرتبہ اصل وجوہات واضح ہونے سے پہلے ہی معاملہ پس منظر میں چلا گیا۔ ماہرین کے مطابق مچھلیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کی وجوہات میں پانی کی آلودگی، آکسیجن کی کمی یا دیگر ماحولیاتی عوامل شامل ہو سکتے ہیں، جن کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
صرف مچھلیاں نہیں، پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے
ماہرین کے مطابق آبی حیات میں کسی بھی قسم کی بڑی تبدیلی پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ آلودہ پانی میں موجود زہریلے عناصر نہ صرف مچھلیوں بلکہ ان پر انحصار کرنے والے پرندوں اور دیگر جانداروں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
چند ہفتے قبل راول جھیل میں آنے والے فلیمنگو پرندوں کی ہلاکت کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جہاں شکاریوں کی کارروائی کے باعث کئی پرندے مارے گئے جبکہ باقی پرندوں نے جھیل کا رخ چھوڑ دیا۔ اب مچھلیوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر جھیل کے تحفظ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
راول جھیل ایک اہم سیاحتی مقام بھی ہے جہاں آنے والے افراد سے داخلہ فیس اور گاڑیوں کی پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے۔ تاہم بار بار سامنے آنے والے ماحولیاتی مسائل جھیل کی نگرانی، صفائی اور تحفظ کے نظام پر سوالات پیدا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی وسائل صرف تفریحی سرگرمیوں کے لیے نہیں بلکہ ان کے اندر موجود قدرتی حیات کے تحفظ کے لیے بھی ذمہ دارانہ اقدامات کے متقاضی ہیں۔
راول جھیل کے کنارے پڑی مردہ مچھلیاں صرف ایک ماحولیاتی خرابی کی علامت نہیں بلکہ ایک انتباہ بھی ہیں کہ قدرتی نظام میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں اکثر بڑے بحران سے پہلے اشارہ دے دیتی ہیں۔
جب تک مچھلیوں کی ہلاکت کی اصل وجہ سامنے نہیں آتی، پانی کے معیار کی بحالی اور حفاظتی اقدامات مؤثر نہیں کیے جاتے، یہ واقعہ ایک سوال بن کر موجود رہے گا۔
ایک صحت مند جھیل زندگی کو برقرار رکھتی ہے، لیکن جب جھیل کے کناروں پر زندگی ختم ہونے لگے تو یہ صرف پانی کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ اس پر انحصار کرنے والے ہر نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔
