اسلام آباد
دنیا اس وقت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ سائنس دان کرۂ ارض کو ٹھنڈا رکھنے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز پر تحقیق کر رہے ہیں۔
آج کی توجہ کاربن کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی اور جیو انجینیئرنگ جیسے جدید طریقوں پر مرکوز ہے، مگر تاریخ میں ایسے کئی حیران کن منصوبے بھی پیش کیے گئے جن کا مقصد پوری زمین کی آب و ہوا کو بدل دینا تھا۔
بحیرۂ روم کو خشک کرنے سے لے کر قطب شمالی پر ایٹمی بم گرانے اور آسمان میں مصنوعی چاند بنانے تک، یہ منصوبے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسان فطرت کو اپنے مطابق ڈھالنے کے لیے کس حد تک جانے کا تصور کر چکا ہے۔
اٹلانٹروپا منصوبہ: بحیرۂ روم کو خشک کرنے کا خواب
1930 کی دہائی میں جرمن انجینئر ہرمن سورگل نے “اٹلانٹروپا” کے نام سے ایک غیر معمولی منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے کے تحت آبنائے جبرالٹر پر ایک عظیم الشان ڈیم تعمیر کر کے بحیرۂ روم کی سطح تقریباً 200 میٹر تک کم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
اس منصوبے کا مقصد لاکھوں ایکڑ نئی زمین حاصل کرنا تھا، جسے زراعت اور انسانی آبادکاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ اس منصوبے پر کبھی عمل درآمد نہ ہو سکا، تاہم 1960 کی دہائی تک اس پر سنجیدہ بحث جاری رہی۔
اسٹالن کا منصوبہ: قطب شمالی کو گرم کرنے کی کوشش
سابق سوویت یونین کے شدید سرد موسم سے نمٹنے کے لیے انجینئر پی ایم بوریسوف نے آبنائے بیرنگ پر ایک بڑا ڈیم تعمیر کرنے کی تجویز دی۔ ان کا خیال تھا کہ سمندری دھاروں کا رخ تبدیل کرکے گرم پانی قطب شمالی تک پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے برف پگھلے گی اور روس کی آب و ہوا نسبتاً معتدل ہو جائے گی۔
کچھ سوویت سائنس دانوں نے آرکٹک سمندر کے نیچے ایک وسیع نہر کھودنے کی تجویز بھی پیش کی۔ یہ تمام خیالات 1948 میں شروع کیے گئے “اسٹالن پلان فار ٹرانسفارمیشن آف نیچر” کا حصہ تھے، تاہم بھاری لاگت اور تکنیکی مشکلات کے باعث ان پر عمل نہ ہو سکا۔
آب و ہوا بدلنے کے لیے ایٹمی بم استعمال کرنے کی تجویز
جوہری دور کے آغاز کے بعد بعض سائنس دانوں نے انتہائی غیر معمولی تجاویز بھی پیش کیں۔
امریکی ماہرِ موسمیات ہیری ویکسلر نے ایک موقع پر تجویز دی کہ اگر قطب شمالی کی برف پر کئی ہائیڈروجن بم دھماکے سے اڑا دیے جائیں تو وہاں کا درجہ حرارت مستقل طور پر بڑھ سکتا ہے۔
ادھر سوویت یونین نے سول انجینئرنگ کے مقاصد کے لیے ایٹمی دھماکوں کے استعمال کا تجربہ بھی کیا، تاہم اس سے محدود نتائج حاصل ہوئے اور تابکار آلودگی کے خطرات کے باعث منصوبہ ترک کر دیا گیا۔
روس کا “دوسرا چاند” بنانے کا تجربہ
1990 کی دہائی میں روس نے “پروجیکٹ زنامیا (Znamya)” کے نام سے ایک منفرد منصوبہ شروع کیا، جس کا مقصد مصنوعی روشنی کے ذریعے رات کے اندھیرے کو کم کرنا تھا۔
اس منصوبے کے تحت خلاء میں بڑے عکاس آئینے نصب کیے گئے تاکہ سورج کی روشنی کو زمین کے شمالی علاقوں کی جانب منعکس کیا جا سکے۔ ابتدائی تجربہ جزوی طور پر کامیاب رہا اور تقریباً پانچ کلومیٹر کے علاقے کو چند لمحوں کے لیے روشن کیا گیا، تاہم بعد میں تکنیکی اور مالی مشکلات کے باعث منصوبہ ترک کر دیا گیا۔
آسٹریلیا میں مصنوعی پہاڑ بنانے کی تجویز
1989 میں آسٹریلوی مصنف لوری ہوگن نے تجویز دی کہ آسٹریلیا کے وسیع صحرائی علاقوں میں بارشیں بڑھانے کے لیے تقریباً دو ہزار کلومیٹر طویل اور چار کلومیٹر بلند مصنوعی پہاڑی سلسلہ تعمیر کیا جائے۔
ان کا خیال تھا کہ یہ پہاڑ بارش کے قدرتی نظام کو تبدیل کر کے خشک علاقوں کو سرسبز بنا سکتے ہیں، مگر بعد میں ماہرین نے حساب لگایا کہ اس منصوبے کے لیے اتنی چٹان اور مٹی درکار ہوگی جتنی پوری انسانی تاریخ میں کبھی نہیں نکالی گئی، جس کے باعث اسے ناقابلِ عمل قرار دے دیا گیا۔
سائنس فکشن سے جدید جیو انجینیئرنگ تک
اگرچہ یہ تمام منصوبے کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے، لیکن یہ انسان کی اس دیرینہ خواہش کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ ٹیکنالوجی کی مدد سے فطرت کو اپنے مطابق ڈھال سکے۔
آج سائنس دان کاربن کیپچر، کلاؤڈ برائٹننگ اور سولر ریڈی ایشن مینجمنٹ جیسی جدید جیو انجینیئرنگ ٹیکنالوجیز پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ماضی کے برعکس، ان طریقوں کو زیادہ محفوظ، سائنسی بنیادوں پر آزمودہ اور ماحول دوست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس کے باوجود ایک بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا انسان واقعی ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین کی آب و ہوا کو محفوظ انداز میں تبدیل کر سکتا ہے، یا پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا واحد مؤثر راستہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور بدلتے ماحول سے خود کو ہم آہنگ کرنا ہے؟
