اسلام آباد
طویل عرصہ شادی کے بعد طلاق یافتہ خواتین کو شوہر کی جائیداد میں 50 فیصد تک حصہ دینے کی تجویز پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور میں تفصیلی بحث ہوئی، تاہم کمیٹی نے اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لینے کا فیصلہ کر لیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عطا الرحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں مجوزہ قانون کے مختلف قانونی، سماجی اور شرعی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر سید علی ظفر نے پرائیویٹ ممبرز بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طلاق کے بعد خواتین کو معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے، خصوصاً ایسی خواتین کو جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے گھریلو ذمہ داریوں، بچوں کی پرورش اور خاندان کی دیکھ بھال میں صرف کیے ہوں۔
ان کے مطابق کئی خواتین 40 سال یا اس سے زائد عرصے کی شادی کے بعد طلاق کی صورت میں نہ مناسب رہائش رکھتی ہیں اور نہ ہی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ، جس کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بل کے تحت نکاح نامے میں ایک ایسی شق شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے مخصوص حالات میں طلاق یافتہ خاتون کو شوہر کی جائیداد میں 50 فیصد تک حصہ دیا جا سکے تاکہ اس کا معاشی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ متعدد ممالک، جن میں بعض مسلم اکثریتی ریاستیں بھی شامل ہیں، خاندانی زندگی میں بیوی کی گھریلو خدمات اور بچوں کی پرورش کو معاشی شراکت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے ایران، شام، لیبیا، اردن، ملائیشیا، برطانیہ اور بھارت کی مثالیں بھی پیش کیں۔
اجلاس کے دوران بعض ارکان نے بل کی حمایت کی، جبکہ کچھ نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ اگر کسی خاندان میں بیوی مالی طور پر زیادہ مضبوط ہو اور شوہر کی کفالت کر رہی ہو تو قانون میں مرد کے حقوق کا بھی تحفظ ہونا چاہیے تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان توازن برقرار رہے۔
سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ پاکستان میں قانون سازی اسلامی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے اور اسلام خواتین کو پہلے ہی حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے، اس لیے بل کا شرعی نقطہ نظر سے جائزہ ضروری ہے۔
دوسری جانب سینیٹر سرمد علی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ترکی اور ایران جیسے ممالک میں اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں تو انہیں محض اس بنیاد پر اسلامی تعلیمات کے منافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق تجویز کو مسترد کرنے کے بجائے اس کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینے کی حمایت کی، جبکہ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ہندو پرسنل لا میں بھی اس نوعیت کے قانونی تحفظات موجود ہیں، اس لیے اس تجویز پر مزید غور کیا جانا چاہیے۔
بحث کے اختتام پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مجوزہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا جائے یا کونسل کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں مدعو کر کے ان کی رائے حاصل کی جائے، جس کے بعد ہی اس قانون سازی پر مزید پیش رفت کی جائے گی۔
