امریکہ-ایران جنگ: چین کا خاموش مگر مؤثر کردار سامنے آ گیا

0

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ چین اس بحران میں ایک محتاط مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔“آپریشن ایپک فیوری” کے آغاز کے بعد شروع ہونے والی یہ کشیدگی ابتدا میں محدود فوجی کارروائی کے طور پر سامنے آئی، تاہم اب یہ ایک بڑے معاشی اور توانائی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے خاص طور پر چین جیسی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشت متاثر ہوئی۔ چین کی تقریباً 40 فیصد تیل درآمدات اسیراستے سے گزرتی ہیں، جس نے اس کے لیے اس بحران کو ایک بڑا اقتصادی چیلنج بنا دیا ہے۔چین نے صورتحال سے نمٹنے کے لیےاپنےاسٹریٹجک ذخائر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل راستوں، جیسے گوادر، پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔سفارتی سطح پر چین نے خود کو ایکتوازن قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے یکطرفہ فوجی کارروائیوں پر تنقید کی، جبکہ صدر شی جن پنگ نے علاقائیقیادت سے رابطے کر کے جنگ بندی اور استحکام کی اپیل کی ہے۔اطلاعات کے مطابق چین پس پردہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے، جس میں پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق چین کی یہ حکمت عملی—عوامی طور پر غیرجانبداری اور پس پردہ سفارت کاری—اس کے طویل المدتی جغرافیائی مفادات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنے معاشی اور علاقائی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.