شازیہ محبوب
اسلام آباد: ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی اسلام آباد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سرسبز مارگلہ پہاڑیوں کے سائے تلے جب سورج غروب ہوگا تو وفاقی دارالحکومت کا آسمان غیر معمولی سفارتی سرگرمیوں سے گونج رہا ہوگا۔ غیر ملکی وفود کی آمد نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ایران-امریکہ مذاکرات محض ایک معمول کی سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک ممکنہ تاریخی موڑ ہیں، جس کی راہ پاکستان ہموار کر رہا ہے۔ جنگ بندی کی ثالثی کے بعد پاکستان اس حساس مکالمے کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جیسے اہم رہنما شریک ہو سکتے ہیں۔
شہر میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ الرٹ جاری ہے، 10,000 سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جبکہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور تمام اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ موقع پاکستان کے لیے صرف میزبانی نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی امتحان بھی ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ماضی کی جھلک: جب کراچی مہک اٹھا تھا
ایسے مواقع پر تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ دسمبر 1959 کی وہ صبح یاد آتی ہے جب امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور صدر ایوب خان کی دعوت پر کراچی پہنچے تھے۔
یہ دورہ صرف سفارتی نہیں بلکہ ایک علامتی مظاہرہ بھی تھا۔ شہر کو دلہن کی طرح سجایا گیا، سڑکیں سنواری گئیں، اور یہاں تک کہ بدبو کو چھپانے کے لیے پیرس سے خوشبو منگوا کر سڑکوں پر چھڑکی گئی۔ یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک منفرد باب سمجھا جاتا ہے۔
ماہر تعلیم پرویز ہڈبھائی کے مطابق، اس دورے کے بعد امریکہ نے پاکستان کے لیے فوجی اور اقتصادی امداد میں نمایاں اضافہ کیا، جو اس دورے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک غیر متوقع دوستی: سفارت کاری کا انسانی پہلو
1961 میں امریکی نائب صدر لنڈن بی جانسن کے دورہ پاکستان کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سفارت کاری کو ایک انسانی رنگ دیا۔ کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک میں پھنسے جانسن کی نظر ایک اونٹ گاڑی والے، بشیر احمد، پر پڑی۔
وہ گاڑی سے اترے، ان سے ہاتھ ملایا اور دوستی کی پیشکش کی۔ یہ مختصر ملاقات ایک دیرپا تعلق میں بدل گئی۔ بشیر کو امریکہ مدعو کیا گیا اور یہ دوستی دونوں کی زندگیوں تک قائم رہی۔
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست کے بڑے فیصلوں کے درمیان بھی انسانی کہانیاں بھی جنم لیتی ہیں اور دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔
آج کا لمحہ: کیا ایک نیا باب رقم ہوگا؟
آج جب اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے، تو سوال یہی ہے کہ کیا یہ لمحہ بھی تاریخ میں ویسی ہی اہمیت اختیار کرے گا؟
پاکستان ایک بار پھر خود کو مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاہم اس بار حالات زیادہ پیچیدہ ہیں اور داؤ بھی کہیں بڑا ہے۔
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ہم بھی آج کے ان لمحات کو اسی طرح یاد کریں—جیسے کبھی کراچی کی خوشبوؤں اور ایک غیر متوقع دوستی کو یاد کیا جاتا ہے۔