اسلام آباد
جب ریاستہائے متحدہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو “آپریشن ایپک فیوری” کا آغاز کیا—ایک وسیع فضائی مہم جس کے دوران ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں—تو دنیا ایک ایسے وسیع اور تباہ کن تصادم کے دہانے پر آ گئی جس کے اثرات عالمی امن کے لیے خطرناک تھے۔
کشیدگی تیزی سے بڑھتی گئی اور صورتحال مکمل جنگ کی جانب بڑھنے لگی۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بار بار شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 2000 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ شہری نقل و حمل کے لیے اہم پل پر حملے نے بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کو مزید نمایاں کیا، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بے بسی بھی واضح ہوتی گئی۔
دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائیوں میں خطے کے مختلف خلیجی ممالک، جن میں متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین شامل ہیں، کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ یہ ممالک امریکی فوجی موجودگی کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی ترسیل کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں اقتصادی بحران مزید گہرا ہو گیا۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں میں تیل کے ذخائر پر حملے کیے گئے، جبکہ عالمی سطح پر ایٹمی تصادم کے خدشات بھی بڑھنے لگے۔ اس دوران عالمی قیادت کی جانب سے واضح سفارتی پیش رفت نہ ہونے پر دنیا میں بے چینی پھیل گئی۔
پاکستان کا ابھرنا بطور ثالث
ایسے میں عالمی سطح پر ایک سوال شدت اختیار کر گیا کہ کون سا ملک امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی کو کم کر سکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس تناظر میں پاکستان کا نام سامنے آیا۔
پاکستان، جو حالیہ برسوں میں علاقائی کشیدگیوں میں ایک فعال کردار ادا کرتا رہا تھا—بھارت کے ساتھ محاذ آرائی، افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں، اور مختلف علاقائی دفاعی معاملات میں کردار—ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا جس کے امریکہ، چین، روس اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات قائم تھے۔
مزید برآں، پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے، خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ مذہبی و جغرافیائی روابط، اور چین کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک تعلقات نے اسے ایک منفرد سفارتی پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔
اگرچہ ملک اندرونی طور پر معاشی چیلنجز، غربت، بیروزگاری اور مالی دباؤ جیسے مسائل سے دوچار تھا، لیکن اس کی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی توازن نے اسے ایک ممکنہ ثالث کے طور پر نمایاں کر دیا۔
اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات
11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کی پہلی براہ راست ملاقات تھے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جبکہ اس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب نے کی، جو اس دوران تہران کے چیف مذاکرات کار کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں وفود کا اسلام آباد آمد پر ذاتی طور پر استقبال کیا، جسے پاکستان کے سفارتی کردار کی علامت قرار دیا گیا۔
یہ مذاکرات تین ادوار میں مجموعی طور پر 21 گھنٹے جاری رہے۔ اگرچہ دس نکاتی جنگ بندی کے فریم ورک پر اہم پیش رفت ہوئی، تاہم دو بنیادی مسائل پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا: آبنائے ہرمز کی حیثیت اور ایران کا جوہری پروگرام۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ “زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن جو اصل مسئلہ تھا وہ حل نہیں ہو سکا۔” انہوں نے ایران کو “غیر لچکدار” قرار دیا۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے امریکی مطالبات کو “زیادہ سے زیادہ دباؤ پر مبنی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ “تقریباً ممکن ہو چکا تھا مگر مکمل نہ ہو سکا۔”
ثالثی کا تسلسل
اگرچہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، تاہم پاکستان نے سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھا اور خط و کتابت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
28 اپریل کو ایران نے پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکہ کو 14 نکاتی جوابی تجویز پیش کی، جس میں دشمنی کے مکمل خاتمے، سرحدی علاقوں سے انخلا، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور جنگی معاوضوں جیسے مطالبات شامل تھے۔
اس کے جواب میں واشنگٹن نے مئی کے آغاز میں اپنی متبادل تجاویز پاکستان کے ذریعے تہران کو ارسال کیں۔
اس پورے عمل کے دوران پاکستان خطے میں ایک ایسے ثالث کے طور پر ابھرا جس نے براہ راست جنگ کے امکانات کو کم کرنے اور فریقین کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
