کیا اسپیس ایکس حقیقت ہے یا بلبلہ؟ ٹریلین ڈالر ویلیو پر بحث تیز

نیوز ڈیسک

0

دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کو پہلی بار مبینہ طور پر دنیا کا پہلا کھرب پتی (Trillionaire) قرار دیا جا رہا ہے، جب ان کی مجموعی دولت 1,110 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ مبینہ طور پر اسپیس ایکس کے تاریخی اسٹاک مارکیٹ ڈیبیو کے بعد سامنے آیا، جسے ماہرین تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو ایک ہی دن میں تقریباً 2.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی۔
لسٹنگ سے قبل کمپنی کی مالیت 1.7 ٹریلین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ٹریڈنگ کے آغاز پر شیئرز 135 ڈالر پر کھلے، جو ابتدائی گھنٹوں میں بڑھ کر 176 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے اور بعد ازاں 160 ڈالر سے اوپر مستحکم ہوئے۔
نتیجتاً چند ہی گھنٹوں میں کمپنی کی ویلیو میں سینکڑوں ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے اثرات براہِ راست ایلون مسک کی مجموعی دولت پر پڑے۔ بلومبرگ کے مطابق ان کی مجموعی مالیت اب 1,110 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے، جو زیادہ تر غیر نقد اثاثوں اور شیئرز پر مشتمل ہے۔
اسپیس ایکس کو صرف ایک خلائی کمپنی نہیں بلکہ ایک وسیع ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اسٹار لنک کے ذریعے عالمی انٹرنیٹ، راکٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں جیسے xAI سے منسلک ہے۔
کمپنی کے عزائم میں مستقبل کی بڑی ٹیکنالوجیز شامل ہیں، جن میں مریخ کی ممکنہ آبادکاری، عالمی کنیکٹیویٹی اور خلائی بنیادوں پر کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔
تاہم، ماہرین کا ایک طبقہ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی ویلیو پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسپیس ایکس کی حقیقی قدر اس سے کم ہو سکتی ہے، اور گزشتہ مالی سال میں تقریباً 5 ارب ڈالر کے نقصان کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے۔
کچھ ماہرین اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کو 700 ارب ڈالر کے قریب قرار دیتے ہیں، اور اسے طویل المدتی اور قیاسی منصوبوں پر مبنی اندازوں سے الگ دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
شدید سرمایہ کاری دلچسپی کے باوجود یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی کا مستقبل ہے یا پھر مالی تاریخ کا سب سے بڑا ممکنہ بلبلہ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.