اسلام آباد
فٹبال دنیا کا سب سے مقبول کھیل ہے، جسے کروڑوں افراد دیکھتے اور کھیلتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں یہی کھیل “فٹبال” کے بجائے “ساکر” کہلاتا ہے۔ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے تناظر میں یہ اصطلاحی فرق ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس لفظ کے پیچھے کوئی تنازع نہیں بلکہ ایک تاریخی اور لسانی ارتقاء چھپا ہے۔
آکسفورڈ کی زبان سے آغاز
مشی گن یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن زیمانسکی کے مطابق “ساکر” کی اصطلاح کسی امریکی ایجاد کے طور پر نہیں بلکہ برطانیہ کی تعلیمی ثقافت سے نکلی۔ 19ویں صدی میں جب 1863 میں فٹبال ایسوسی ایشن قائم ہوئی تو کھیل کو “ایسوسی ایشن فٹبال” کہا جانے لگا تاکہ اسے رگبی فٹبال سے الگ شناخت دی جا سکے۔
اسی دور میں آکسفورڈ اور دیگر برطانوی جامعات میں مختصر الفاظ کے ساتھ “-er” لگانے کا رجحان عام تھا۔ اس طرزِ زبان میں “Association” کو مختصر کر کے “assoc” کہا گیا، اور مزاحیہ انداز میں اسے “soccer” بنا دیا گیا۔
برطانیہ میں عام استعمال، پھر خاموش تبدیلی
تاریخی ریکارڈز کے مطابق 19ویں صدی کے آخر میں “ساکر” اور “فٹبال” دونوں اصطلاحات برطانیہ میں استعمال ہوتی تھیں۔ حتیٰ کہ 20ویں صدی کے وسط تک بھی برطانوی معاشرے میں “ساکر” غیر رسمی طور پر سنا جاتا رہا۔
تاہم وقت کے ساتھ برطانیہ میں “فٹبال” غالب اصطلاح بن گئی، جبکہ “ساکر” زیادہ تر ان ممالک میں رائج ہوا جہاں پہلے سے مختلف قسم کے فٹبال کھیل موجود تھے۔
امریکہ میں “فٹبال” کا مطلب بدل گیا
ریاستہائے متحدہ میں “فٹبال” کا لفظ پہلے ہی امریکی فٹبال کے لیے استعمال ہونے لگا تھا، جو رگبی سے ترقی پایا تھا۔ اس وجہ سے ایسوسی ایشن فٹبال کو الگ شناخت دینے کے لیے “ساکر” زیادہ موزوں سمجھا گیا، اور یہی اصطلاح وہاں مستقل استعمال ہونے لگی۔
یہی رجحان کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں بھی دیکھا گیا، جہاں “ساکر” آج تک عام اصطلاح ہے۔
ایک لفظ، دو شناختیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی اخبارات نے 1980 کی دہائی تک “ساکر” کا استعمال جاری رکھا، لیکن بعد میں یہ اصطلاح برطانیہ میں کم ہوتی چلی گئی۔
لسانی ماہرین کے مطابق یہ اختلاف کسی تنازع کا نتیجہ نہیں بلکہ زبان کے فطری ارتقاء اور علاقائی ترجیحات کا حصہ ہے۔
عالمی کھیل، مختلف نام
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ “فٹبال” اور “ساکر” ایک ہی کھیل کی دو علاقائی شناختیں ہیں۔ فرق صرف جغرافیہ اور زبان کا ہے، جبکہ کھیل اپنی اصل میں ایک ہی عالمی جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔
آخر میں، چاہے اسے فٹبال کہا جائے یا ساکر، یہ کھیل دنیا کو جوڑنے والا ایک مشترکہ جذبہ ہے جو سرحدوں اور زبانوں سے بالاتر ہے۔
Prev Post
