ایک ٹیسٹ نے محمد نواز کے کیریئر کا رخ کیسے بدل دیا؟

0

نیوز ڈیسک
اسلام آباد: تقریباً ایک دہائی تک پاکستان کے قابل اعتماد وائٹ بال آل راؤنڈرز میں شمار ہونے والے محمد نواز کا کیریئر ایک ڈوپنگ ٹیسٹ کے باعث اچانک مشکل مرحلے میں داخل ہوگیا۔

گیند اور بلے دونوں سے ٹیم کے لیے کردار ادا کرنے والے نواز کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر تین ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی سی سی کے مطابق 32 سالہ محمد نواز کا ٹیسٹ کاربوکسی-ٹی ایچ سی کے لیے مثبت آیا، جسے اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے تحت “بدعنوانی کے مادے” کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ نمونہ 7 فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف پاکستان کے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے میچ کے بعد لیا گیا تھا۔
نواز نے یکم مئی کو رضاکارانہ طور پر عارضی معطلی قبول کی اور جرم تسلیم کیا۔ آئی سی سی کے مطابق انہوں نے ثابت کیا کہ یہ مادہ مقابلے سے باہر استعمال کیا گیا تھا اور اس کا کارکردگی بہتر بنانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
چونکہ نواز نے آئی سی سی کے منظور شدہ علاجی پروگرام کو مکمل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور اپنی معطلی کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی مکمل کر لیا، اس لیے پروگرام مکمل ہونے کے بعد وہ مزید پابندی کے بغیر واپسی کے اہل ہوں گے۔
تاہم اس کارروائی کے اثرات ان کے ریکارڈ پر بھی پڑے۔ نیدرلینڈز کے خلاف میچ سے لے کر یکم مئی تک ان کی تمام انفرادی کارکردگی کو نااہل قرار دے دیا گیا، جبکہ وہ انگلش کاؤنٹی سرے کے ساتھ ٹی20 بلاسٹ میں شرکت کے موقع سے بھی محروم ہوگئے۔
ایک غیر روایتی سفر
محمد نواز کا کرکٹ سفر بھی کسی عام کہانی سے مختلف نہیں۔ ابتدا میں وہ بائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ باؤلر اور مڈل آرڈر بلے باز تھے، لیکن پاکستان انڈر 15 ٹیم کے دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران انہیں بائیں ہاتھ کا اسپنر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
کوچ امیر اکبر اور ٹیم منیجر ہارون رشید کی رہنمائی میں یہ تبدیلی ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اسپن باؤلنگ آل راؤنڈر کے طور پر نواز نے اپنی نئی شناخت بنائی اور یہی کردار ان کی کامیابی کی بنیاد بنا۔
2012 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کرنے کے بعد نواز نے ابتدائی چار سیزنز میں تین سنچریاں، سات نصف سنچریاں اور 44 وکٹیں حاصل کرکے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی جگہ بنائی۔
پی ایس ایل سے عالمی کرکٹ تک
محمد نواز کی اصل پہچان پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں بنی، جہاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ ٹورنامنٹ کے نمایاں وکٹ لینے والوں میں شامل رہے۔
اسی کارکردگی نے انہیں 2016 ایشیا کپ کے لیے قومی اسکواڈ میں جگہ دلائی، جس کے بعد انہوں نے اسی سال انگلینڈ اور آئرلینڈ کے دورے کے دوران ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا۔
اس کے بعد نواز پاکستان کے محدود اوورز کے اسکواڈ کا مستقل حصہ بنتے گئے۔ انہوں نے آئی سی سی ٹورنامنٹس اور دو طرفہ سیریز میں بطور آل راؤنڈر خدمات انجام دیں۔ اگرچہ انہیں چھ ٹیسٹ میچز میں بھی موقع ملا، لیکن ان کی اصل شناخت وائٹ بال کرکٹ کے ماہر کھلاڑی کے طور پر بنی۔
واپسی کا چیلنج
ڈوپنگ پابندی محمد نواز کے کیریئر کا سب سے مشکل مرحلہ ضرور ہے، لیکن ان کے سفر میں پہلے بھی کئی تبدیلیاں اور چیلنجز شامل رہے ہیں۔
اب ان کے سامنے سب سے بڑا ہدف نہ صرف پابندی کے بعد واپسی بلکہ دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ بنانا ہے۔ ایک ایسے کھلاڑی کے لیے جو اپنے کیریئر میں کئی بار خود کو نئے انداز میں ابت کر چکا ہے، یہ مرحلہ ایک اور امتحان ثابت ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.