اسلام آباد
سابق پاکستانی اداکارہ سارہ چوہدری نے اپنی نجی زندگی کے ایک عرصے سے زیر بحث معاملے، طلاق، پر پہلی بار کھل کر گفتگو کرتے ہوئے مختلف سوالات اور تنقید کا جواب دیا ہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سارہ چوہدری نے کہا کہ شوبز انڈسٹری چھوڑ کر شادی کے بعد نئی زندگی اختیار کرنے کے باوجود ان کا رشتہ کامیابی سے جاری نہ رہ سکا، جس پر اکثر لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی کی، شوبز کو چھوڑا، لیکن اس کے باوجود ان کی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق شادی اور طلاق دونوں اللہ کے فیصلے اور منصوبے کا حصہ ہیں، اور کسی ایک فریق کی کوشش ہمیشہ نتیجہ بدلنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔
سارہ چوہدری نے کہا کہ طلاق کو فروغ نہیں دینا چاہیے، تاہم میاں بیوی کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ رشتہ بچایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض اوقات تمام کوششوں کے باوجود حالات اس حد تک پہنچ جاتے ہیں جہاں علیحدگی ہی بہتر راستہ رہ جاتا ہے۔
سابق اداکارہ کے مطابق انہوں نے اور ان کے سابق شوہر نے اپنے رشتے کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم بعد ازاں باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔
تفصیلات میں جائے بغیر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دونوں فریق یہ سمجھ گئے کہ مزید ساتھ رہنا ممکن نہیں رہا۔
سارہ چوہدری نے اپنی گفتگو میں روحانی پہلو پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مذہبی سمجھ نے انہیں زندگی کے فیصلوں کو قبول کرنے اور ماضی پر افسوس نہ کرنے میں مدد دی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں نہ شوبز چھوڑنے کا افسوس ہے اور نہ ہی اپنی زندگی کے کسی فیصلے پر پچھتاوا، کیونکہ ان کے مطابق ہر چیز اللہ کی مرضی اور تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے مؤقف اور طلاق جیسے حساس موضوع پر ان کی کھلی گفتگو کو سراہا ہے۔
