نئی دہلی
سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں شروع ہونے والی “کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) اب ایک نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہے، جس نے بھارت میں قومی سطح کے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر بڑے مظاہرے کی کال دی ہے۔
پارٹی نے 6 جون کو ہزاروں افراد کو احتجاج کے لیے جمع ہونے کی دعوت دی ہے تاکہ NEET، CBSE اور CUET سمیت مختلف قومی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا جا سکے۔
احتجاج سے قبل تنظیم کی جانب سے شرکاء کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے، جس میں پرامن رویے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں گروپ نے اعلان کیا ہے کہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہوتے۔ تحریک کو “ایک چھوٹے سے مذاق کو انقلاب میں بدلنے” کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
شرکاء کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بھارتی ترنگا اور ایک کتاب ساتھ لائیں، واقعات کی ویڈیو ریکارڈنگ کریں، مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دیں، اور شدید گرمی کے پیش نظر پانی، ٹوپی اور سن اسکرین کا استعمال کریں۔
رہنما اصولوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مظاہرین اکیلے نہ آئیں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں، بھوکے احتجاج میں شامل نہ ہوں اور مکمل طور پر غیر متشدد رویہ اختیار کریں۔ یہاں تک کہ پولیس اہلکاروں کو خیرسگالی کے طور پر پھول دینے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔
CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے احتجاج سے قبل امریکہ سے بھارت پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے دہلی ایئرپورٹ پر حامیوں سے اپیل کی کہ وہ وہاں جمع نہ ہوں کیونکہ اس سے عوام اور سیکیورٹی اداروں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ردعمل توقع سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے، اس لیے ایئرپورٹ پر بڑا ہجوم پیدا نہ کیا جائے۔
دہلی پہنچنے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر پرامن احتجاج کی اپیل کی اور شرکاء سے پولیس کے ساتھ احترام سے پیش آنے اور قومی پرچم کے ساتھ کتابیں لانے کی ہدایت کی۔
اس تحریک کو سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے، جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کیا گیا تو وہ چھ ہفتے کی بھوک ہڑتال کریں گے۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے دارالحکومت میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سرحدی علاقوں اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد اہلکار مختلف اضلاع میں تعینات کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا نگرانی اور انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ابھی تک احتجاج کی کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
CJP کے ترجمان سورو داس نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج کے لیے اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔
یہ گروپ گزشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا جب ایک آن لائن طنز نے امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق نوجوانوں میں غصے اور بحث کو جنم دیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت سے منسوب مبینہ ریمارکس کے بعد یہ مہم تیزی سے وائرل ہوئی۔
سیاسی ماہرین اس تحریک کے مستقبل پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔ بعض اسے امتحانی نظام کے خلاف ایک اہم عوامی ردعمل قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ صرف سوشل میڈیا مقبولیت طویل مدتی سیاسی اثر میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔
اب اس تحریک کا مستقبل دہلی میں ہونے والے احتجاج کے ٹرن آؤٹ اور اثرات پر منحصر ہوگا۔
