کوئٹہ: سول اسپتال کوئٹہ میں تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی نوجوان ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی حالت اب مستحکم اور خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ڈاکٹر ماہ نور کے بارے میں معالجین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں شدید جسمانی چوٹیں آئی ہیں، تاہم ان کی بینائی محفوظ ہے اور کسی اہم عضو کو فوری خطرہ نہیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ جھلس گیا، جبکہ 7 سے 8 فیصد حصے پر گہرے زخم آئے ہیں جن کے علاج کی ضرورت ہے۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں خصوصی نگہداشت کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
طبی ماہرین کے مطابق حملے کے بعد سب سے بڑی تشویش آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا، تاہم حالیہ طبی معائنے میں دونوں آنکھوں میں قرنیہ کے درمیانے درجے کے دھندلے پن (corneal haze) کی نشاندہی ہوئی، مگر ان کی بینائی برقرار ہے۔ ماہرین امراض چشم اور پلاسٹک سرجنوں کی ٹیم مسلسل ان کے علاج کی نگرانی کر رہی ہے۔
یہ واقعہ سول اسپتال کوئٹہ میں پیش آیا جہاں پولیس کے مطابق لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ نے مبینہ طور پر ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واقعے کے مناظر ریکارڈ ہونے کی اطلاع ہے۔ حملے کے دوران ڈاکٹر کی مدد کی کوشش کرنے والا ایک شخص بھی زخمی ہوا۔
پولیس کے مطابق ملزم فرار ہونے کی کوشش کے دوران مبینہ مقابلے میں مارا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد ہوا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کے فوراً بعد ڈاکٹر ماہ نور کی مدد کرنے والے عبدالرزاق تراکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ان کی بہادری اور فوری مدد کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت اقدام نے ڈاکٹر کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور کو مکمل صحت یابی کے لیے طویل علاج اور بحالی کے مرحلے سے گزرنا ہوگا، تاہم ان کی حالت میں بہتری اور بینائی کا محفوظ رہنا اس کیس میں ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
Next Post
