ترقی یا دباؤ: پاکستان کا اقتصادی سروے 2025-26 کیا ظاہر کرتا ہے؟

شازیہ محبوب

0

اسلام آباد: پاکستان کا تازہ اقتصادی سروے 2025-26 ملکی معیشت کی ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جو بیک وقت امید اور چیلنج دونوں کو ساتھ لیے ہوئے ہے۔
حکومت اسے بحالی اور استحکام کی سمت پیش رفت قرار دے رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کئی بنیادی کمزوریاں اب بھی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سالانہ اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مشکل عالمی حالات، خطے میں کشیدگی اور داخلی معاشی دباؤ کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک دکھائی ہے۔
ان کے مطابق یہ کارکردگی گزشتہ چند برسوں کی نسبت بہتری کی علامت ہے، اگرچہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے 3.2 فیصد سے زیادہ اور چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔
مجموعی قومی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو توسیع کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
صنعتی شعبہ بھی بہتری کی طرف گیا جہاں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو چار سال میں سب سے مضبوط کارکردگی ہے۔ سروے کے مطابق 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں میں ترقی دیکھی گئی، جن میں سیمنٹ، کھاد، پیٹرولیم مصنوعات اور موبائل فونز کی طلب نمایاں رہی۔
خدمات کے شعبے نے بھی 4.9 فیصد ترقی کے ساتھ معیشت کو سہارا دیا، جس میں بینکنگ، تجارت اور مواصلات کے شعبے اہم محرک رہے۔
حکومت نے مالیاتی اشاریوں میں بہتری کو بھی نمایاں کیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ٹیکس وصولی میں گزشتہ دو برسوں کے دوران 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور آئندہ مالی سال میں اس میں مزید اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا، جسے حکومتی پالیسی کا اہم کامیاب پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔
بیرونی کھاتے میں بھی بہتری دیکھی گئی، جہاں کرنٹ اکاؤنٹ جولائی تا مارچ کے دوران 72 ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ ترسیلات زر معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا بن کر ابھریں، جن میں صرف ایک ماہ کے دوران 4.2 ارب ڈالر کی آمد رپورٹ کی گئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور حکومت انہیں 18 ارب ڈالر تک لے جانے کی توقع رکھتی ہے۔
تاہم اس مثبت تصویر کے ساتھ کئی کمزوریاں بھی نمایاں ہیں۔ برآمدات مجموعی طور پر دباؤ کا شکار رہیں، خاص طور پر چاول اور خوراک کے شعبے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں اربوں ڈالر کی کمی رپورٹ کی گئی۔ اگرچہ ٹیکسٹائل برآمدات میں معمولی بہتری دیکھی گئی، لیکن مجموعی برآمدی کارکردگی توقعات سے کم رہی۔
زرعی شعبہ بھی صرف 2.8 فیصد ترقی کے ساتھ سب سے کمزور شعبوں میں شامل رہا، جس پر ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے اخراجات، پانی کی کمی اور پالیسی تسلسل کے فقدان کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ادھر مہنگائی اور توانائی کی قیمتیں عام شہریوں کے لیے بدستور دباؤ کا سبب بنی ہوئی ہیں، جبکہ ملک کا قرض سے جی ڈی پی کا تناسب بھی بلند سطح پر برقرار ہے، جو پائیدار معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
یوں اقتصادی سروے ایک ایسی معیشت کی نشاندہی کرتا ہے جو کچھ اہم شعبوں میں بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ساختی اصلاحات کے بغیر اس رفتار کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.