اسلام آباد: ہزاروں میل کا سفر طے کر کے سائبیریا، وسطی ایشیا اور چین سے ہجرت کرنے والے فلیمنگو راول جھیل پر اترے، مگر پناہ کی تلاش ان کے لیے المیے میں بدل گئی۔
پرندے طویل سفر کے بعد آرام اور تحفظ کی امید میں جھیل پر پہنچے، تاہم بعد ازاں ان کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں، جس پر وائلڈ لائف حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واقعے کو سنگین ماحولیاتی نقصان قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہجرت کرنے والے پرندوں کے لیے ہر جھیل اور آبی مقام زندگی اور موت کے درمیان فرق کا باعث ہوتا ہے، اور راول جھیل جیسے مقامات ان کے لیے عارضی پناہ گاہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔
افسوسناک واقعے کے بعد کچھ پرندے زندہ بچ کر وہاں سے چلے گئے، تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق سوالات کو جنم دے گیا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان میں پہلے پیش آنے والے ایسے واقعات کی یاد بھی تازہ کرتا ہے، جن میں کاون ہاتھی سمیت مختلف جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک پر قومی اور عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق فطرت کے بے زبان جانداروں کے تحفظ کی ذمہ داری انسانی معاشروں اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے، اور ایسے واقعات اس ذمہ داری پر سوال اٹھاتے ہیں۔
