اسلام آباد: ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج برمنگھم میں ٹورنامنٹ کے اہم ترین مقابلوں میں مدمقابل ہوں گے، جہاں دونوں ٹیموں پر دباؤ عروج پر پہنچ چکا ہے۔
دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ کے مشکل ترین گروپ میں شامل ہیں، جس کے باعث ایونٹ کے آغاز ہی سے ہر میچ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بھارت اس مقابلے میں پاکستان کے خلاف مضبوط ریکارڈ کے ساتھ میدان میں اترے گا، جبکہ پاکستان اسے عالمی اسٹیج پر نئی تاریخ رقم کرنے کا موقع سمجھ رہا ہے۔
پاکستانی ٹیم کی قیادت کپتان فاطمہ ثناء کر رہی ہیں، جنہیں ہفتے کے روز پریکٹس سیشن کے دوران گھٹنے میں معمولی تکلیف ہوئی تھی، تاہم انہوں نے میچ کے لیے اپنی فٹنس پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔
پاکستان کی نظریں نوجوان بلے باز ایمن فاطمہ پر بھی مرکوز ہوں گی، جنہوں نے مختصر کیریئر میں جارحانہ بیٹنگ سے توجہ حاصل کی ہے اور ڈیتھ اوورز میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب بھارت کی ٹیم کپتان ہرمن پریت کور کی قیادت میں مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ میدان میں اترے گی، جس میں اسمرتی مندھانا اور شفالی ورما جیسے تجربہ کار نام شامل ہیں۔
میچ سے قبل ہرمن پریت کور نے کہا کہ ان کی ٹیم سیاسی بیانیوں کے بجائے صرف کرکٹ پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ فاطمہ ثناء نے بھی خواتین کرکٹ میں مثبت ماحول اور کھیل کے بڑھتے معیار کو سراہا۔
پاکستانی شائقین کی تمام تر توجہ اب برمنگھم کے اس بڑے مقابلے پر مرکوز ہے، جو نہ صرف ٹورنامنٹ بلکہ دونوں ٹیموں کی مہم کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
