رحمن اللہ گرباز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ابھرتا ہوا نیا چہرہ کیوں؟

نیو ز ڈیسک

0

اسلام آباد: رحمن اللہ گرباز تیزی سے جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے سب سے ابھرتے ہوئے اور پرجوش چہروں میں شامل ہو گئے ہیں۔ جارحانہ بیٹنگ، وکٹ کے پیچھے برق رفتار ردعمل اور دباؤ میں بے خوف انداز نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
گرباز نے کم عمری ہی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔ صرف 15 سال کی عمر میں وہ افغانستان کے ڈومیسٹک کرکٹ سرکٹ میں نمایاں ہو چکے تھے، جبکہ 2017 میں انہوں نے افغانستان اے ٹیم کے لیے لسٹ اے ڈیبیو کیا۔
جلد ہی انہوں نے انڈر-19 ورلڈ کپ اور انڈر-19 ایشیا کپ میں شاندار کارکردگی دکھا کر سب کی توجہ حاصل کر لی۔
ان کا بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو 2019 میں زمبابوے کے خلاف ہوا، جہاں انہوں نے صرف 24 گیندوں پر 43 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی دھماکہ خیز صلاحیتوں کا اعلان کیا۔
بعد ازاں وہ افغانستان کے مستقل اوپنر بن گئے اور ون ڈے کرکٹ میں بھی تاریخی کارکردگی دکھائی۔ 2021 میں وہ ون ڈے ڈیبیو پر سنچری بنانے والے پہلے افغان بلے باز بنے۔
2023 میں انہوں نے بنگلہ دیش اور پاکستان کے خلاف شاندار اننگز کھیل کر اپنی فارم کو مزید مستحکم کیا اور ٹی ٹوئنٹی میں بھی سنچری اسکور کی۔
گرباز نے 2024 کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹورنامنٹ کے نمایاں بلے بازوں میں جگہ بنائی اور افغانستان کو پہلی بار سیمی فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
فرنچائز کرکٹ میں بھی وہ پی ایس ایل، آئی پی ایل، سی پی ایل، بی پی ایل اور دیگر لیگز میں اپنی دھماکہ خیز بیٹنگ کی وجہ سے شہرت حاصل کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گرباز کی اصل طاقت ان کا بے خوف انداز، جارحانہ آغاز اور بڑے اسکورز کے دباؤ میں بھی پُراعتماد کھیل ہے۔
آج رحمن اللہ گرباز صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ افغانستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی کرکٹ کی علامت بن چکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.