ایران اور نیوزی لینڈ کے سنسنی خیز ورلڈ کپ ڈرا سے 4 اہم نکات

نیوز ڈیسک

0

لاس اینجلس: پیر کی رات لاس اینجلس اسٹیڈیم میں ایک سنسنی خیز مقابلے میں ایران اور نیوزی لینڈ نے 2-2 سے ڈرا کھیلا۔ معیاری فنشنگ، تیز رفتار کھیل اور مسلسل بدلتی صورتحال نے میچ کو شائقین کے لیے یادگار بنا دیا۔
نیوزی لینڈ نے دو مرتبہ کرس ووڈ اور ایلیا جسٹ کی شاندار شراکت داری کے ذریعے برتری حاصل کی، تاہم ایران نے دونوں بار بھرپور جواب دیا، جہاں تجربہ کار فل بیک رامین رضائیان نے واپسی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مقابلے کے چار اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. کرس ووڈ اور ایلیا جسٹ نے نیوزی لینڈ کی قیادت سنبھالی
اگرچہ ایران نے میچ کے زیادہ تر حصے میں گیند پر کنٹرول برقرار رکھا، لیکن کرس ووڈ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ نیوزی لینڈ کے سب سے مؤثر کھلاڑیوں میں کیوں شمار ہوتے ہیں۔
تجربہ کار اسٹرائیکر نے اپنی جسمانی طاقت اور تجربے کا بھرپور استعمال کیا، خصوصاً ہولڈ اپ کھیل میں، جو نیوزی لینڈ کے حملوں کی بنیاد بنا۔
ووڈ کی لمبی گیندوں کو کنٹرول کرنے، دفاعی دباؤ برداشت کرنے اور ساتھی کھلاڑیوں کو بہتر پوزیشن میں لانے کی صلاحیت نے نیوزی لینڈ کو مسلسل مقابلے میں رکھا۔
ایلیا جسٹ نے دونوں مواقع پر بہترین فنشنگ کا مظاہرہ کیا، جبکہ حملے بنانے میں ووڈ کا کردار بھی انتہائی اہم رہا۔ مدر ویل کے ونگر نے اپنے رنز بہترین انداز میں ٹائم کیے اور آخری تیسرے حصے میں ووڈ کے ساتھ شاندار ہم آہنگی دکھائی۔
دونوں کھلاڑیوں نے مل کر ایران کے دفاع کے لیے مسلسل خطرہ پیدا کیے رکھا۔
2. ایران کے مقامی کھلاڑی توقعات پر پورا اترے
ایران کی ڈومیسٹک لیگ کی معطلی کے باعث ٹیم کی تیاریوں پر خدشات موجود تھے، لیکن کئی مقامی کھلاڑیوں نے مشکل حالات میں متاثر کن کارکردگی پیش کی۔
رامین رضائیان ایران کے نمایاں ترین کھلاڑی رہے۔ تجربہ کار فل بیک نے ایک جارحانہ موو کے بعد باکس میں اپنی دوڑ جاری رکھتے ہوئے پہلا برابری کا گول کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک شاندار کراس دیا جسے محمد محبی نے ایران کے دوسرے گول میں تبدیل کر دیا۔
بہت سے ایرانی کھلاڑی اس ٹورنامنٹ میں محدود مسابقتی میچ پریکٹس کے ساتھ آئے تھے، تاہم ان کی توانائی اور عزم پورے مقابلے میں نمایاں رہا۔
ایران کو لاس اینجلس میں موجود بڑی ایرانی کمیونٹی کی بھرپور حمایت بھی حاصل رہی، جس نے اسٹیڈیم میں ایک پرجوش ماحول پیدا کیا۔
3. ہائیڈریشن بریکس نے حکمت عملی پر بڑا اثر ڈالا
ہائیڈریشن بریکس نے کھیل کی رفتار اور ٹیموں کی حکمت عملی پر واضح اثر ڈالا، جس سے ظاہر ہوا کہ اس ورلڈ کپ میں ایسے وقفے کتنے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
پہلے ہاف میں نیوزی لینڈ بہتر ردھم حاصل کرتا دکھائی دے رہا تھا، لیکن کولنگ بریک نے ان کی رفتار توڑ دی۔ ایران نے اس وقفے کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے خود کو منظم کیا اور جلد ہی برابری حاصل کر لی۔
دوسرے ہاف میں ہائیڈریشن بریک نیوزی لینڈ کے حق میں گئی۔ ایران اس وقت مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے قریب تھا اور نیوزی لینڈ کا دفاع دباؤ کا شکار نظر آ رہا تھا، لیکن اس وقفے نے کوچ ڈیرن بازلی کو اپنی ٹیم دفاعی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کا موقع فراہم کیا۔
وقفے کے بعد نیوزی لینڈ زیادہ منظم اور پُراعتماد دکھائی دیا، جس کے باعث ایران کھیل کے آخری لمحات میں واضح مواقع پیدا نہ کر سکا۔
4. اگلے مرحلے تک رسائی کا راستہ اب بھی مشکل
اس ڈرا کے بعد گروپ کی صورتحال مزید دلچسپ ہوگئی، خاص طور پر اس لیے کہ دن کے ابتدائی میچ میں بیلجیئم اور مصر نے بھی پوائنٹس تقسیم کیے تھے۔
اگرچہ ایران اور نیوزی لینڈ دونوں نے مثبت پہلو دکھائے، لیکن کوئی بھی ٹیم وہ اہم فتح حاصل نہ کر سکی جو کوالیفکیشن کی دوڑ میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔
ٹورنامنٹ کی بہترین تیسرے نمبر کی ٹیموں میں شامل ہو کر اگلے مرحلے تک رسائی اب دونوں کے لیے مزید مشکل دکھائی دیتی ہے۔
دونوں ٹیموں کو اب سخت مقابلوں کا سامنا ہے، جہاں ایران کا اگلا میچ بیلجیئم جبکہ نیوزی لینڈ کا مقابلہ مصر سے ہوگا۔ ناک آؤٹ مرحلے کی امیدیں برقرار رکھنے کے لیے دونوں کو غیرمعمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔
اب تک نہ ایران اور نہ ہی نیوزی لینڈ فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ سکا ہے، اور اس ڈرا کے بعد یہ سنگ میل حاصل کرنے کے لیے دونوں کو کچھ خاص کرنا ہوگا۔
فاکس اسپورٹس سے اضافی معلومات شامل کی گئی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.