راولپنڈی میں ہنی ٹریپ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ، پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کے انکشافات

نیوز ڈیسک

0

راولپنڈی: شہر میں ہنی ٹریپ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ بعض مقدمات میں پولیس اہلکاروں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے انکشافات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں ہنی ٹریپ سے متعلق متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں شہریوں کو سوشل میڈیا، موبائل فون کالز اور دیگر ذرائع کے ذریعے جھانسے میں لے کر بلیک میل کرنے اور بھاری رقوم وصول کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ہنی ٹریپ گروہ پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے شکار سے دوستی قائم کرتے ہیں، اور بعد ازاں ملاقات کے بہانے مخصوص مقامات پر بلا کر قابل اعتراض تصاویر یا ویڈیوز بنا لی جاتی ہیں۔
اس کے بعد متاثرہ افراد کو بدنامی کی دھمکیاں دے کر لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں۔
بعض مقدمات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان گروہوں کو بااثر افراد اور بعض پولیس اہلکاروں کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہے، جس کے باعث متاثرین شکایت درج کرانے سے گریز کرتے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، حالیہ تحقیقات میں بعض اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملوث عناصر کے خلاف محکمانہ کارروائی سمیت قانونی اقدامات پر غور جاری ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور تمام ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
شہری اور سماجی حلقوں نے ہنی ٹریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ شہریوں کو بھی زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ نامعلوم افراد کے جھانسے میں آ کر مالی اور سماجی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔
دوسری جانب پولیس حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر معروف افراد سے رابطوں میں احتیاط کریں، کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ تھانے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں اور بلیک میلنگ کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے قانونی مدد حاصل کریں۔
مبصرین کے مطابق ہنی ٹریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف شہریوں کے لیے مالی اور سماجی خطرہ ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جس کے لیے مؤثر اور شفاف کارروائی ناگزیر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.