عاشورہ: قربانی، صبر اور حق کی فتح کا لازوال پیغام

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد:ملک بھر میں آج یومِ عاشور نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد میں لاکھوں مسلمان مجالسِ عزا اور ماتمی جلوسوں میں شریک ہو کر واقعۂ کربلا کے لازوال پیغام کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں ماتمی جلوس، علم، تعزیے اور ذوالجناح کے جلوس نکالے جا رہے ہیں، جبکہ علمائے کرام اور ذاکرین اپنے خطابات میں حضرت امام حسینؓ کی سیرت، ان کی استقامت اور کربلا کے تاریخی واقعے کے دینی و اخلاقی اسباق پر روشنی ڈال رہے ہیں۔
مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق، انصاف، صبر، ایثار اور انسانی وقار کے تحفظ کا ایسا عالمگیر پیغام ہے جو ہر دور میں انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
یومِ عاشور کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ جلوسوں کے راستوں، امام بارگاہوں اور حساس مقامات پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ نگرانی کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ عاشور مسلمانوں کو قربانی، صبر، استقامت، سچائی اور انصاف کی لازوال اقدار کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ حق، انصاف اور انسانی وقار پر ظلم اور باطل کے سامنے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
صدر مملکت نے قوم پر زور دیا کہ وہ امن، بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دے، افواہوں اور اشتعال انگیز سرگرمیوں سے اجتناب کرے اور قربانی، ایثار اور خدمتِ انسانیت کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ عاشور ایمان، صبر، قربانی، عدل اور سماجی اصلاح کا لازوال درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقا کی قربانیاں آج بھی انسانیت کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، حق پر ثابت قدم رہنے اور انسانی وقار کے تحفظ کا حوصلہ دیتی ہیں۔
وزیراعظم نے علمائے کرام، مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد، باہمی احترام، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دے کر واقعۂ کربلا کے حقیقی پیغام کو عام کریں۔ انہوں نے پاکستان اور امتِ مسلمہ کے لیے امن، استحکام، خوشحالی اور اتحاد کی دعا بھی کی۔
یومِ عاشور کے موقع پر ایک بار پھر یہ پیغام اجاگر ہوا کہ حق و انصاف کے لیے قربانی، انسانیت سے ہمدردی اور مشکلات میں ثابت قدمی وہ آفاقی اقدار ہیں جو آج بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی چودہ صدیاں قبل تھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.