اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر پابندی، خلاف ورزی توہینِ عدالت قرار

0

اسلام آباد اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے خلاف کیس میں سخت حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب شہر میں ایک بھی درخت کاٹا گیا تو اسے توہینِ عدالت تصور کیا جائے گا۔سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور ماحول کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کراچی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی اور حال کے کراچی میں واضح فرق نظر آتا ہے۔عدالت نے تنبیہ کی کہ اگر آئندہ سی ڈی اے کا کوئی افسر درختوں کی کٹائی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔سماعت کے دوران سی ڈی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف نائن پارک سے 12 ہزار 800 پیپر ملبری کے درخت کاٹے گئے اور ان کی جگہ 40 ہزار نئے پودے لگائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انسانی صحت کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔عدالت نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مستند تحقیق کہاں ہے اور کیا کسی زرعی یونیورسٹی یا ماحولیاتی ماہر سے رائے لی گئی تھی؟ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی منظوری بھی شامل نہیں تھی۔

عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ کسی بھی کارروائی سے قبل مستند ماحولیاتی ماہر کی رائے لینا لازمی ہوگا، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.