اسلام آباد: ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ آج کی نوجوان نسل اپنے والدین کی نسل کے مقابلے میں حیاتیاتی طور پر زیادہ تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے، اور یہی رجحان کم عمری میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جڑا ہو سکتا ہے۔
سالِ رواں کے آغاز میں ماہرین نے رپورٹ کیا تھا کہ 20 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں کینسر کی 11 اقسام کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں چھاتی، بڑی آنت (کولوریکٹل) اور لبلبے کا کینسر نمایاں ہیں۔ یہ بیماریاں روایتی طور پر زیادہ عمر کے افراد سے منسوب سمجھی جاتی تھیں، جس کے باعث سائنسدان اس تبدیلی کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین اس رجحان کی کئی ممکنہ وجوہات بیان کرتے ہیں، جن میں غیر صحت بخش غذا، موٹاپا، تمباکو نوشی، شراب نوشی، آنتوں کے مفید جراثیم (گٹ مائیکرو بایوم) میں تبدیلیاں اور مائیکرو پلاسٹک سمیت ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔
تاہم طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق تیز رفتار حیاتیاتی عمر رسیدگی بھی اس مسئلے کا ایک اہم سبب ہو سکتی ہے۔
حیاتیاتی عمر، اصل عمر سے مختلف ہوتی ہے۔ اصل عمر صرف گزرے ہوئے سالوں کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ حیاتیاتی عمر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جسم اندرونی طور پر کتنی تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہے اور اس کی مجموعی صحت کس سطح پر ہے۔ خوراک، نیند، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمی، سوزش اور میٹابولک صحت جیسے عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
محققین نے برطانیہ اور امریکہ کے تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار افراد کے خون کے نمونوں اور طبی معلومات کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 30 اور 40 سال کی عمر کے افراد میں حیاتیاتی عمر رسیدگی کا عمل پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہے۔
تحقیق کے مطابق 1965 سے 1974 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد میں خلیاتی سطح پر عمر بڑھنے کی علامات ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں تھیں جو ان سے دو دہائیاں پہلے پیدا ہوئے تھے۔ کئی افراد کی حیاتیاتی عمر ان کی حقیقی عمر سے زیادہ پائی گئی۔
سائنسدانوں نے ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان، دائمی سوزش اور دیگر حیاتیاتی اشاریوں کا بھی جائزہ لیا، جو عام طور پر غیر صحت مند طرزِ زندگی اور ماحولیاتی عوامل سے منسلک ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ آج پچاس سال کی عمر میں موجود افراد، ستر سال کی عمر کے موجودہ افراد کے مقابلے میں تقریباً 23 فیصد زیادہ تیزی سے حیاتیاتی عمر رسیدگی کا شکار رہے ہیں۔
کینسر ریسرچ یوکے کے تعاون سے ہونے والی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کی حیاتیاتی عمر ان کی اصل عمر سے زیادہ تھی، ان میں 55 سال کی عمر سے پہلے کینسر لاحق ہونے کا خطرہ بھی زیادہ پایا گیا۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ، واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی پروفیس یِن کاؤ کے مطابق، حیاتیاتی عمر صرف سالگرہیوں کی تعداد کا نام نہیں بلکہ جسم کے خلیات اور مالیکیولز میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ اور نقصان کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل سوزش، مدافعتی نظام کی کمزوری اور خلیات کے افعال میں بگاڑ جیسی تبدیلیاں وقت سے پہلے عمر رسیدگی کا سبب بن سکتی ہیں، اور ممکن ہے کہ یہی عوامل نوجوان نسل میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز سے منسلک ہوں۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ تیز حیاتیاتی عمر رسیدگی براہِ راست کینسر کا سبب بنتی ہے۔ البتہ نتائج اس بات کے اہم اشارے فراہم کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں کینسر کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
