اسلام آباد: کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد گرفتار افغان شہری سے جاری تفتیش نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی، سرحد پار روابط اور مبینہ عسکریت پسند نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
حکام کے مطابق صفورا، یونیورسٹی روڈ پر مسامیت چورنگی کے قریب رینجرز کیمپ پر ہفتے کی شب ہونے والے حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے ملزم کی شناخت عثمان کے نام سے ہوئی ہے۔ تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات حملے میں ملوث نیٹ ورک تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
تفتیش میں کیا سامنے آیا؟
تفتیشی حکام کے مطابق عثمان نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان کے شہر جلال آباد سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ اس کے بقول اس کے ساتھ عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق بھی شامل تھے اور یہ گروہ حملے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل پاکستان پہنچا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ عثمان نے بتایا کہ حملے کے دوران جانان نے رینجرز کیمپ پر دھماکہ خیز مواد پھینکا، جبکہ عبدالہادی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔
تفتیش کاروں کے مطابق عثمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عبدالہادی، جس کا تعلق مبینہ طور پر باجوڑ سے تھا، پاکستان پہنچنے کے بعد گروہ کے لیے ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھکانے کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ وزیرستان سے اسلحہ اور گولہ بارود منتقل کرنے کا ذمہ دار بھی تھا۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ معلومات ان کے اس مؤقف کو تقویت دیتی ہیں کہ حملے کی منصوبہ بندی اور لاجسٹک معاونت سرحد پار موجود نیٹ ورکس کے ذریعے کی گئی۔
حملہ کیسے ہوا؟
حکام کے مطابق ہفتے کی شب مسلح حملہ آوروں نے کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر حملے کی کوشش کی اور تنصیب کے قریب ایک دھماکہ خیز ڈیوائس بھی دھماکے سے اڑا دی۔
رینجرز اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو کیمپ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں تین رینجرز اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ چار زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ عثمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
پاکستان کا مؤقف
حملے کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن “بنیان مرصوص” کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔
انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں تیزی
کراچی حملے کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے پاکستان۔افغانستان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کر دیں۔
سرکاری حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 شدت پسند مارے گئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ 28 جون کو باجوڑ میں ہونے والے ایک آپریشن میں ایک غیر ملکی عسکریت پسند کمانڈر، جس کی شناخت **خان فروش عرف زابل** کے نام سے کی گئی، اپنے تین ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں کے قریب کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا، جہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد کرکے تباہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نشانہ بننے والے عناصر کا تعلق جماعت الاحرار سے تھا، جسے پاکستانی حکام کراچی حملے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
تحقیقات جاری
کراچی حملے نے ایک بار پھر پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور سرحد پار عسکریت پسند نیٹ ورکس سے متعلق خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور انٹیلی جنس ادارے اس مبینہ نیٹ ورک کی مکمل ساخت، حملہ آوروں کے سہولت کاروں اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے والے عناصر کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم اب تک گرفتار ملزم کے مبینہ اعترافات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ حملے سے متعلق تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
