جی بی الیکشن رپورٹ، خواتین کی نمائندگی انتہائی کم

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد:آزاد انتخابی مبصر تنظیم گلوبل الیکشن آبزرور نیٹ ورک (GEON) نے 2026 کے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے متعلق اپنی مشاہداتی رپورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی انتخابی مہم پر مبینہ پابندیوں، انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے استعمال اور خواتین امیدواروں کی انتہائی کم نمائندگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 11 اپریل سے 7 جون تک تقریباً 500 مبصرین نے گلگت بلتستان کے تمام 24 انتخابی حلقوں میں انتخابی سرگرمیوں اور پولنگ کے عمل کا مشاہدہ کیا۔
جی ای او این کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیشتر علاقوں میں پولنگ مجموعی طور پر پرامن رہی، تاہم انتخابات سے قبل کا ماحول سیاسی مقابلے کی شفافیت کے حوالے سے کئی سوالات چھوڑ گیا۔ رپورٹ کے مطابق متعدد شہریوں نے مبصرین کو بتایا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی مہم آزادانہ طور پر چلانے میں مشکلات کا سامنا رہا اور پارٹی کارکنوں پر مختلف نوعیت کی پابندیوں کے الزامات سامنے آئے۔
رپورٹ میں پی ٹی آئی کے امیدوار عتیق پیرزادہ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بابا جان سمیت پارٹی کے بعض رہنماؤں کے خلاف مقدمات انتخابی مہم کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی درج کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں کو مطلوبہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی)نہ ہونے کی بنیاد پر گلگت بلتستان سے واپس بھیجا گیا۔

جی ای او این نے ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مساوی بنیادوں پر انتخابی مہم چلانے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔
رپورٹ میں انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ پروگرام کے تحت وفاقی وزیر امیر مقام کی جانب سے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کو انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے ممکنہ استعمال سے تعبیر کیا، جس پر الیکشن کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں ووٹر رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 2020 کے 7 لاکھ 45 ہزار 661 سے بڑھ کر 2026 میں 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہوگئی، جو 29 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ خواتین ووٹروں کی رجسٹریشن میں تقریباً 34 فیصد اضافہ ہوا، تاہم وہ اب بھی مجموعی رجسٹرڈ ووٹروں کا صرف 47.4 فیصد ہیں۔
جی ای او این نے خواتین کی سیاسی نمائندگی کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق عام نشستوں پر حصہ لینے والے 403 امیدواروں میں صرف آٹھ خواتین شامل تھیں، جو مجموعی امیدواروں کا محض 1.8 فیصد بنتی ہیں۔ تنظیم نے نشاندہی کی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 24 عام نشستوں میں سے کسی ایک پر بھی خاتون امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا، اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ خواتین کی نمائندگی کو صرف مخصوص نشستوں تک محدود نہ رکھا جائے۔
پولنگ کے روز تقریباً 65 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ بیشتر علاقوں میں ووٹنگ پرامن رہی، تاہم بعض حلقوں میں سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں، پولنگ اسٹیشنوں پر کشیدگی اور حلقہ جی بی اے-17 میں ایک سیاسی اجتماع کے دوران مبینہ ہوائی فائرنگ سے دو بچوں کی ہلاکت جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ جی ای او این نے ان واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی میں تاخیر اور فارم-45 کی تیاری میں مشکلات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ تنظیم نے سفارش کی ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے پولنگ عملے کی تربیت اور انتخابی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
ابتدائی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نو جنرل نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، جبکہ آزاد امیدوار چھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی متعدد نشستیں حاصل کیں، تاہم کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث اتحادی حکومت کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
اپنی سفارشات میں جی ای او این نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی مہم پر مبینہ پابندیوں، سرکاری وسائل کے ممکنہ استعمال اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، جبکہ خواتین کی سیاسی نمائندگی بڑھانے، پولنگ عملے کی تربیت بہتر بنانے اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے مساوی انتخابی مواقع یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.