آبنائے ہرمز کھلی رہنے کی توقع، تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں

نیوز ڈیسک

0

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو مسلسل تیسرے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کے اشاروں کے بعد تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کمی آئی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 77 سینٹ یا 1.1 فیصد کمی کے بعد 70.80 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 84 سینٹ یا 1.2 فیصد گر کر 67.74 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔ اس سے ایک روز قبل بھی دونوں عالمی بینچ مارکس میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
یہ کمی قطر کی جانب سے اس بیان کے بعد سامنے آئی کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں جون میں ہونے والی جنگ بندی سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم، قطری حکام کے مطابق مستقل امن معاہدے کے حوالے سے ابھی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے، کھلی رہے گی، جس کے باعث سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں اور قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
ہائیٹونگ فیوچرز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی مسلسل ترسیل اور عالمی منڈی میں اضافی سپلائی کی توقعات قیمتوں میں کمی کا سبب بن رہی ہیں، جبکہ بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان مسابقت بھی مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
ادھر صنعتی ذرائع کے مطابق، اوپیک پلس (OPEC+) کے رکن ممالک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اگست کے لیے تیل کی پیداوار کے ہدف میں مزید اضافے کی منظوری دیں گے، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب، مالیاتی ادارے UBS نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے خام تیل کی قیمتوں سے متعلق اپنی پیش گوئی کم کر دی ہے۔
بینک نے ستمبر کی سہ ماہی کے لیے برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت کی پیش گوئی میں 25 ڈالر فی بیرل اور دسمبر کی سہ ماہی کے لیے 10 ڈالر فی بیرل کمی کر دی ہے۔ UBS کے مطابق اب 2026 کی دوسری ششماہی میں برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت 80 ڈالر فی بیرل اور 2027 میں 75 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔
تاہم بینک نے خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت اب بھی معمول سے کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی تیل کی منڈی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور 9 جولائی کو متوقع ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.