ملک بھر میں موسلادھار بارشیں، متعدد افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور دیگر حادثات میں متعدد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ بارشوں سے گھروں، مساجد، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
خیبرپختونخوا میں آسمانی بجلی گرنے، بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں کے باعث کئی اضلاع متاثر ہوئے۔ باڑہ ذکاخیل اور لوئر چترال میں پیش آنے والے مختلف حادثات میں دو بچے جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے، جبکہ 27 مکانات، دو مساجد، دو دکانیں اور ایک پل کو نقصان پہنچا۔
اپر دیر کے علاقے واڑی درہ میں ایک مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے 22 طالبات زخمی ہوگئیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
ہری پور میں چھ سالہ بچہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جبکہ مردان کے علاقے دربوکلے میں آندھی کے دوران دیوار گرنے سے دو بچے زخمی ہوگئے۔
شدید بارشوں کے باعث سوات، شانگلہ اور باجوڑ میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، جس سے متعدد سڑکیں بند اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ مری میں اپر جھیکا گلی روڈ پر بڑا درخت گرنے سے طویل ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔
پنجاب میں بھی بارشوں نے تباہی مچائی۔ ضلع اٹک میں مختلف مقامات پر چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں تین افراد جاں بحق جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں عبادت کی اہلیہ، علی رضا اور عبدالہادی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔
لاہور میں گلبرگ، جوہر ٹاؤن، ڈیفنس، ماڈل ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی، جس کے باعث متعدد بجلی کے فیڈر ٹرپ کر گئے اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
ادھر شرقپور شریف، کامونکی، پھالیہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، جبکہ پنڈی بھٹیاں کے علاقے علی ٹاؤن میں بجلی کی ٹوٹی ہوئی تاروں سے آگ بھڑک اٹھی، جس سے شہریوں کو اضافی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے مطابق بارشوں اور گرج چمک کا موجودہ سلسلہ 6 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ نے پیش گوئی کی ہے کہ شمالی بلوچستان میں 4 جولائی تک جبکہ بالائی سندھ میں 3 اور 4 جولائی کو بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں نے شہریوں، خصوصاً نشیبی اور پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کو سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب کے خطرات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.