تہران: ایران نے امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ اور تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد ایران نے بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق معاہدے کی شقوں کو نظر انداز کیا، جبکہ معاہدے کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام عمان اور خطے کے دیگر ممالک سے مشاورت کے ذریعے ہونا تھا۔ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے کی شق نمبر 5 میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے علاقائی مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم امریکا اس پر عمل کرنے کے بجائے اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا نے بار بار معاہدے کی خلاف ورزی کر کے ثابت کیا کہ اس کے وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
