نیوز ڈیسک
پشاور: پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے کے المناک واقعے میں 35 افراد جاں بحق اور 53 زخمی ہوگئے۔ سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی، جس میں لواحقین، مقامی شہریوں اور خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے شرکت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
اجتماعی نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور لواحقین نے اپنے پیاروں کو اشک بار آنکھوں کے ساتھ آخری وداع کیا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت کی۔
وفاقی حکومت نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق، مبینہ غفلت کے الزام میں اسکول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ عمارت گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
عمارت گرنے سے 35 افراد جاں بحق، 53 زخمی
حکام کے مطابق، اس افسوس ناک واقعے میں 35 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں دو خواتین اساتذہ اور چھ طالبات بھی شامل ہیں، جبکہ 53 افراد زخمی ہوئے۔
ریسکیو ٹیموں نے تین منزلہ نجی اسکول کی عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں مکمل کرلی ہیں۔ اب تحقیقات کے ذریعے عمارت گرنے کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا اس حادثے کے پیچھے تعمیراتی خامیاں، حفاظتی انتظامات میں کوتاہی یا متعلقہ ضوابط کی خلاف ورزی کارفرما تھی۔
اس سانحے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، حفاظتی معائنے اور تعمیراتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے بچھڑنے کے صدمے سے دوچار ہیں، جبکہ تحقیقات سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کرنے کے ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کی راہ ہموار ہوگی۔
