70 لاکھ ہیکٹر جنگلات تباہ، کیا 2030 کا عالمی ہدف پورا ہو سکے گا؟

0

نیوز ڈیسک

پیرس: دنیا بھر میں جنگلات کی کٹائی کی رفتار میں 2025 کے دوران 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بہتری کو مستقل رجحان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وسطی افریقہ میں جنگلات کی تیزی سے تباہی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید ہونے والے ایل نینو کے خدشات نے جنگلات کے تحفظ کی عالمی کوششوں کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ ’فاریسٹ ڈیکلریشن اسیسمنٹ‘ کے مطابق، 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 70 لاکھ ہیکٹر رقبے پر پھیلے جنگلات مستقل طور پر تباہ ہوگئے۔ یہ رقبہ تقریباً جمہوریہ آئرلینڈ کے مجموعی رقبے کے برابر ہے، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں جنگلات کے نقصان میں 15 فیصد کمی دیکھی گئی۔

تحقیقی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی میں کمی کے باوجود دنیا 2030 تک جنگلات کی کٹائی ختم کرنے کے اپنے عالمی ہدف سے اب بھی بہت پیچھے ہے۔

رپورٹ کی شریک مصنفہ اور مشاورتی ادارے ’کلائمیٹ فوکس‘ کی لیڈ کنسلٹنٹ ایرن میٹسن نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ 2025 کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ضرور ہیں، لیکن انہیں کسی مستقل تبدیلی کے بجائے ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق، 2030 تک جنگلات کی کٹائی کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر سال جنگلات کے نقصان میں تقریباً 10 لاکھ ہیکٹر کی کمی لانا ضروری ہے۔ یہ ہدف 2021 میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کوپ 26 کے دوران طے کیا گیا تھا۔

لاطینی امریکا میں بہتری، برازیل کا اہم کردار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران جنگلات کے تحفظ میں بہتری کی ایک بڑی وجہ لاطینی امریکا میں جنگلات کی کٹائی میں کمی تھی۔ دنیا کے اہم جنگلاتی خطوں میں شمار ہونے والے اس علاقے میں جنگلات کے نقصان کی شرح 33 فیصد کم ہوئی۔

اس پیش رفت میں برازیل کی جانب سے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکنے کے اقدامات اور ایمیزون کے علاقے میں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد نے اہم کردار ادا کیا۔

تاہم، رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ یہ کامیابی بڑی حد تک چند حکومتوں کی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں پر منحصر ہے، اس لیے اسے مستقبل میں برقرار رکھنا یقینی نہیں۔

ایمیزون کے خطے میں آئندہ انتخابات اور حکومتوں کی ممکنہ تبدیلیوں کے باعث بھی جنگلات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ برازیل میں صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے 2030 تک جنگلات کی غیر قانونی کٹائی ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم سیاسی تبدیلیاں ان کوششوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

کانگو بیسن میں جنگلات کی تباہی تشویش ناک حد تک بڑھ گئی

لاطینی امریکا میں بہتری کے برعکس وسطی افریقہ کے کانگو بیسن میں جنگلات کا نقصان بڑھ گیا، جہاں گزشتہ سال بارانی جنگلات کا تقریباً 24 لاکھ ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔ یہ نقصان ایمیزون کے جنگلات میں ہونے والی کٹائی کے حجم کے قریب پہنچ گیا ہے۔

کیمرون میں ماحولیاتی تنظیم ’سنٹر فار انوائرنمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ‘ کے بانی اور وکیل سیم اینگیفو نے جنگلات کی اس بڑے پیمانے پر تباہی کو ایک سنگین المیہ قرار دیا۔

ان کے مطابق، جنگلات کا مسلسل خاتمہ ماحولیات کے ساتھ مقامی آبادیوں کی زندگی، ثقافتی شناخت اور روزگار کے لیے بھی ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، کان کنی اور لکڑی حاصل کرنے کے لیے درختوں کی کٹائی وسطی افریقہ میں جنگلات کے نقصان کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ جنگلات کے سکڑنے سے مقامی برادریوں کے لیے دستیاب زمین اور قدرتی وسائل محدود ہوتے ہیں، جس سے معاشی مشکلات اور تنازعات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

ایل نینو جنگلات کے لیے نیا خطرہ

رپورٹ میں ایل نینو کے ممکنہ اثرات کو بھی جنگلات کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے متعلق ایک قدرتی موسمیاتی کیفیت ہے، جس کے نتیجے میں کئی خطوں میں خشک سالی اور شدید گرمی پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسے حالات جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھا دیتے ہیں۔

انڈونیشیا میں شدید خشک موسم کے باعث بورنیو اور جنوبی سماٹرا کے بعض علاقوں میں جنگلات اور باغات میں آگ لگنے کے واقعات پہلے ہی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اگر 2026 اور 2027 کے دوران ایل نینو کی شدت سے متعلق پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو اشنکٹبندیی جنگلات میں خشک سالی اور آگ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ایرن میٹسن نے نشاندہی کی کہ 2015 اور 2016 کے دوران آنے والے شدید ایل نینو کے موقع پر درختوں کے احاطے کو پہنچنے والے نقصان میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ ان کے مطابق، اسی نوعیت کے موسمی حالات دوبارہ پیدا ہونے کی صورت میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی حالیہ پیش رفت متاثر ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی میں عارضی کمی کے باوجود عالمی سطح پر مؤثر ماحولیاتی پالیسیوں، قوانین پر عمل درآمد اور جنگلات کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر موجودہ خطرات پر قابو نہ پایا گیا تو 2030 تک جنگلات کی کٹائی ختم کرنے کا عالمی ہدف حاصل کرنا مزید مشکل ہوجائے گا

Leave A Reply

Your email address will not be published.